0

چین میں ڈبل الیون

حال ہی میں صوبہ جے جیانگ کے شہر ہانجو کی ایک پرائمری اسکول کی بچی کے لکھے گئے مضمون کو ان کی ماں نے سوشل میڈیا پر ڈالاہے اس مضموں کو لاکھوں چینی شوشل میڈیا صارفین سراہ رہے ہیں ۔ مضمون میں ، معصوم لڑکی نے لکھا ہے کہ اس کا سب سے یادگار روایتی تہوار ڈبل الیون آن لائن شاپنگ ڈے ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی ماں نے چین کے مشہور روایتی تہوار سپر نگ فیسٹیول کی نسبت زیادہ شاپنگ کی ہے اور بہت سارے کپڑون، کھلونوں اور کاسمیٹکس کی خریداری کی ہے۔ چین میں ڈبل ایلیون کا مشاہدہ کرنے کے بعد میرے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یہاں کے لوگ ، یہاں تک کہ بچے ، کس طرح ڈبل ایلیون کے فیسٹیول کی طرف راغب ہوچکے ہیں –
یہ رجحان ، ملک کے تکنیکی و ڈیجیٹل عروج کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ چین میں آن لائن خریداری کا عام رواج ہے چین ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ آن لائن خریداری کی جاتی ہے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ آن لائن کاروبار کرتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے متعدد ایپس اور لاتعداد ویب سائٹس موجود ہیں جہاں جا کر آپ آسانی سے اپنی پسند کی کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں۔ جو بھی چیز بیچنے کیلئے پیش کی جاتی ہے اس کی مکمل تفصیلات دی گئی ہوتی ہیں لہذا آپ پورا اطمینان کرسکتے ہیں اس کے بعد انتہائی آسان طریقہ کار کے مطابق جس کو کوئی بھی عام آدمی انجام دے سکتاہےسے آپ اس پروڈکٹ کو خرید تے ہیں اور اس پروڈکٹ کے مقام کے لحاظ سے ایک مقررہ وقت میں پروڈکٹ آپ کے دروازے پر پہنچا دی جاتی ہے ۔ اسی سے جڑی ایک انڈسٹری ڈیلیوری سروس ہے ، جو تاجر سے خریدار یا صارف تک مختلف پروڈکٹس پہنچانے کا کام کرتی ہے ہزاروں افراد کا ڈیلیوری سروس سے روزگار وابستہ ہے۔ اور آپ کو چین کی سڑکوں پر ڈیلیوری کی بڑی گاڑیوں سے لے کر بائیکرز نظر آئیں گے جو گلی گلی جاکر خریداروں تک ان کی اشیا پہنچاتے ہیں۔ آن لائن خریداری میں مختلف ترغیبات دی جاتی ہیں جن میں عمومی سیل کے علاوہ مخصوص تاریخوں میں بہت زیادہ رعایتیں دی جاتی ہیں جن سے لوگ خوب استفادہ کرتےہیں اور ان تاریخوں میں خوب خریداری کرتے ہیں۔ ان ہی میں سے سب سے بڑا شاپنگ فیسٹیول گیارہ گیارہ یا ڈبل ایلیون ہے۔
لوگ لمبے عرصے سے اس فیسٹیول کا انتظار کرتےہیں اور پھر جب یہ دن آتاہے تو خوب شاپنگ کرتے ہیں۔ جیسے ہی رات کے بارہ بجے ۱۱ نومبر کی گھڑی کلک کرتی ہے گیارہ تاریخ کا آغاز ہوتاہے بڑی تعداد میں خریداری شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک جاری رہتاہے۔ تجارتی مقاصد کے تحت شروع کیا گیا یہ تہوار اب روایتی تہوار کی شکل اختیار کرتا جا کررہا ہے۔ گو کہ چین کے روایتی تہواروں کے مقابلہ میں ، ڈبل 11 زیادہ مادی اور تجارتی نوعیت کا ہے تاہم یہ بھی لوگوں کی طرز زندگی پر اثر ڈال رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کے روایتی تہوار قومی ثقافت اور جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ تہوار لوگوں کے مابین جذباتی بندھن قائم کرتے ہیں اور پرانی یادوں اوران سے منسلک جذبات کو جنم دیتے ہیں۔ چین کی یہ خوبی ہے کہ اس نے اپنی نسلوں کو پرانی روایات سے بھی جڑا رکھاہے اور نئے دور کے تقاضوں سے بھی خوب مزین و مربوط کیاہے۔ آج کا چینی نوجوان جشن بہار کی تعطیلات میں اپنے آبائی علاقے جاتاہے اپنے خاندان کے ساتھ مل کر جشن بہار سے جڑی مختلف روایات کی تجدید کرتاہے ، قومی دن کی تعطیلات کے دوران اپنے وطن اور ملک سے محبت کا اظہار کرتاہے اور جدید دور کے سب سے بڑے حقائق معیشت اور ٹیکنالوجی سے جڑے رہنے کا اظہار ڈبل الیون یعنی ۱۱ نومبر کو کرتاہے۔ لہذا وہ روایتی اور “جدید” دونوں تہواروں سے لطف اندوز ہوتا ہے یہی چین کا حسن ہے قدیم وجدید کا حسین امتزاج، روایات اور جدت کا خوبصورت توازن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں