0

فرانس کا ترک قوم پرست تنظیم ’گرے وولز‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ

فرانس نے ترک قوم پرست تنظیم ’گرے وولز‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ دنوں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر جنگ کے بعد فرانس میں ترک کمیونٹی اور آرمینیائی نسل کے افراد کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے بعد گزشتہ روز مبینہ آرمینیائی نسل کشی کی یادگار پر چاکنگ کی گئی تھی۔نامعلوم افراد نے گزشتہ روز لیون شہر میں یادگار پر آر ٹی ای (رجب طیب اردوان) اور ترک تنظیم (گرے وولز) کے نام کی چاکنگ کی تھی جسے بعد ازاں فوری طور پر مٹا دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر فرانسیسی حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ترک تنظیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے فرانسیسی وزیر داخلہ گیرالڈ ڈرامینن نے کہا کہ ترک تنظیم پر پابندی کا معاملہ بدھ کو فرانسیسی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ کے معاملے پر فرانس مکمل طور پر آرمینیا کی حمایت کررہا ہے اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکی پر جنگجوؤں کو نگورنو کاراباخ بھیجنے کے الزام پر جواب طلب کیا تھا۔تاہم اب ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ترکی اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو دماغی معائنے کا مشورہ دے ڈالا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترک صدر نے قوم سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی جس پر فرانسیسی وزیر داخلہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ گرے وولز کا تعلق ترکی کی سیاسی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی سے ہے جو طیب اردوان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی اتحادی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں