0

چین چودہویں پانچ سالہ منصوبے کی دہلیز پر عوام کے مزید خوشحال مستقبل کیلئے پرعزم

دنیا میں وہ قومیں کامیاب رہتی ہیں جو ہر کام کیلئے مناسب اور بروقت منصوبہ کرتی ہیں۔ منصوبہ بندی اور واضح اہداف کے تعین کے بغیر افراد کی زندگی بھی منتشر رہتی ہے اور قومیں بھی افراتفری کا شکار ہوتی ہیں۔ آج روئے زمین پر وہ ممالک کامیاب ہیں جہاں بہترین منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اور اس کی بہترین مثال عوامی جمہوریہ چین ہے ۔
عوامی جمہوریہ چین کی ایک بڑی خوبی ہر چھوٹے بڑے کام کیلئے بہترین اور تفصیلی منصوبہ بندی یے ۔قومی سطح پر بڑے اہداف کے تعین کے بعد ان کے حصول کیلئے نچلی سطح تک تفصیلی لائحہ عمل طے کیا جاتاہے اور پھر وقتا فوقتا ان کا جائزہ لیا جاتاہے اس تمام عمل کے دوران قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں قسم کے اہداف کا خیال رکھاجاتاہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں تشکیل پانے والے منصوبوں میں ہمیشہ عوام کو اولین حیثیت دی جاتی ہے اور ان کی فلاح وبہبود کو مقدم رکھا جاتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں عوامی خوشحالی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
منصبوں کو تشکیل دیتے وقت چینی معاشرے کی اقدار اور روایات کا بھرپور خیال رکھا جاتاہے اور ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ نظر رکھا جاتاہے ۔ اسلئے چینی معاشرہ روایات ، جدت کاری اور انوویشن کا حسین امتزاج ہے ۔ جہاں روایت اور جدت ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں ۔ اب تو مغربی دانشور بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انہیں بھی جمہوریت کی رٹ لگانے کے بجائے دنیا میں موجود دوسرے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ یقینا ان کا اشارہ چینی ماڈل کی طرف ہے کیونکہ موجودہ وبا کے دوران چینی ماڈل نے شاندار کا رکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے اور نہ صرف کووڈ۔۱۹ پر ابتدائی طور پر مختصر وقت میں قابو پایا ہے بلکہ کووڈ۔۱۹ کی دوبارہ آنے والی لہروں کو بھی ابتدا ہی میں روکا ہے ۔جبکہ دنیا کے وہ ممالک جو اپنے نظام کو بہترین قرار دیتےہیں کوڈ ۔۱۹ کے سامنے لڑ کھڑا گئے ہیں اور ناکام ہوگئے ہیں۔ اسی طرح ان ممالک کی معیشتیں بھی بری طرح متاثر ہوگئیں ہیں اور معمولات زندگی بحال نہیں ہو رہیں۔ جبکہ عوامی جمہویہ چین کی نہ صرف معیشت کامیابی کے ساتھ بحالی کے راستے پر گا مزن ہے بلکہ معمولات زندگی بھی بحال ہوگئیں ہیں۔
کووڈ ۔۱۹ کو کنٹرول کرنے اور شکست دینے کے دوران چین کی طرز حکمرانی اور معاشرتی اشتراک وامتزاج اور تعاون کے کامیاب ماڈل نے دنیا کو حیران کردیا ہے ۔تاہم یہ سب کچھ راتوں رات حاصل نہیں ہوا اس کے پیچھے چینی قوم کی دانش کے ساتھ ساتھ طویل اور مسلسل جدوجہد کارفرما ہے۔اس جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے اور صحیح سمت میں رکھنے کیلئے مسلسل منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے ۔ کسی اور ملک سے متعلق آپ نے ۱۰۰ سالہ اہداف ، چالیس سالہ اہداف کے بارے میں نہیں سنا ہوگا ۔ تاہم یہ چین ہے جو طویل مدتی اور قلیل مدتی دونوں طرح کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور پھر ان منصوبوں کو عمل میں لا نے کیلئے دل و جاں سے محنت کرتاہے ۔ ان منصوبوں کو تشکیل دینے کیلئے غور وحوض کیا جاتاہے اور ملک کے مختلف طبقے اس بارے میں اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ آج چین چودہویں پنچ سالہ منصوبے کیلئے تیاری کررہا ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف تجایز پیش کی جارہی ہیں اور انتہائی گہرائی کے ساتھ غور و حوض کیاجارہاہے۔ اور ماضی کے تجربات اور مستقبل کے چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے بھر پور تیاری کی جارہی ہے ۔
پانچ سالہ منصوبوں نے ، چین کی قومی حکمرانی کے ایک لازمی اور خاص پہلو کی حیثیت سے ، ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی میں سہولت فراہم کرنے اور طویل مدتی سماجی استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1953 کے بعد سے ،اب تک چین نے 13 سالہ پانچ سالہ منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے ۔
چودہویں پنچ سالہ منصوبے کے بارے میں صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے ، چین مشترکہ تعمیر ، تعاون اور اشتراک کے ذریعے معاشرتی ترقی کے نمونوں کو تلاش کرے گا ، اور 14 ویں پانچ سالہ منصوبہ 2021 سے 2025 تک ملک کی معاشرتی اور معاشی ترقی کا نمونہ طے کرے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے معاشرتی ترقی میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ مثال کے طور پر چین کی فی کس جی ڈی پی 10،000 امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے ، شہرکاری یعنی اربنائزیشن کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے ، اور چین کا درمیانی آمدنی والا گروہ 400 ملین سےتجاوز کرچکا ہے۔ چین اگلے پانچ سالوں میں ، معاشرتی تعمیر ، سماجی نظم و نسق اور عوامی خدمت کے نئے تعمیر ی مرحلے میں باہمی تعاون اور اشتراک کے ساتھ قدم رکھ رہا ہے ۔ توقع ہے کہ چودہویں پانچ سالہ منصوبے سے چین کی ترقی ، معاشرتی استحکام اور خوشحالی کا سفر مزید مستحکم ہوگا۔ اور دنیا کی مجموعی ترقی اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل میں مزید مدد گار ثابت ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں