0

دین اسلام ہی تختہ مشق کیوں

جو قوم اپنے نصب العین اور مقصد زندگی کو پس پشت ڈال دیتی ہے ،ا س کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق طرز عمل اختیار نہیں کرتی اس کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا اسی طرح یقینی ہوتا ہے جس طرح تیل ختم ہو جانے کے بعد چراغ کاگل ہوجانا یقینی ہوتا ہے ۔
ہر مہذب اور باشعور قوم کا نظامِ حیات اس کے بنیادی عقائد و نظریات ، اقدار و روایات، اصول و ضوابط اور نظریہ حیات کا آہینہ دار ہوتاہے۔ اس لیے اگر آج مسلمانوں میں اسلامی نظامِ حیات رائج نہیں تو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے اسلام کو محض زبانی دعوؤں اور ایمان کے کھوکھلے نعروں کےلئے رکھا ہوا ہے۔ آج کے مسلمان کو دین اسلام ، ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے قبول ہی نہیں ،اس نے اسے ایک کامل دین اور ایک مکمل نظامِ ہائے زندگی کی حیثیت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ ہی نہیں دی ۔ اس کی بجائے جو ضابطہ حیات ہم نے اختیار کیا ہے۔اِسے جو چاہے نام دیں مگر یہ ایک اسلامی نظامِ حیات ہرگز نہیں ہے ۔
بیشک قرآن ہی سیدھا راستہ ہے۔ لیکن ہم قرآن و سنت سے بے بہرہ دور گمراہی و جہالت کی اندھیریوں میں بھٹک رہے ہیں ، کوئی راہ دکھانے والا نہیں ، سب اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں اور برائیوں پر برائیاں کیے جارہے ہیں کسی کو ذرا احساس نہیں کہ ایک دن اسے اپنے رب کے ہاں جوابدہی کیلئے حاضر ہونا ہے اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بار بار عہد اور اقرارکو استوار کرکے اسے پس پشت ڈال دینے اور دن میں کئی کئی مرتبہ یاد دہانی ( یعنی ’’اذان‘‘ جو دن میں پانچ مرتبہ آدمی کو یاد دہانی کراتی ہے کہ اے لوگو! اللہ سب سے بڑا ہے، اے لوگو! اللہ کے سوا کوئی اطاعت و بندگی کے لائق نہیں ہے ، اے لوگو! حضرت محمد مصطفیﷺ اللہ کے رسول ہیں( اللہ نے انہیں تمہاری اصلاح و ہدایت اور رہنمائی کیلئے بھیجا ہے اس لیے انہی کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرو اور انہی کی پیروی کرو)، اے لوگو! اللہ کی بندگی (نماز) کی طرف آؤ، اے لوگو! (بھٹکتے نہ پھرو) آؤ فلاح کی طرف، آؤ نجات کی طرف، اے لوگو! (پھر سن لوکہ) بڑائی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا اطاعت و بندگی کے لائق نہیں) یہ یاددہانی دن میں پانچ مرتبہ کرائے جانے کے باوجود اپنے حلف و فاداری کو بھول جانے والوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ عنقریب ان کے کانوں میں یہ صدا گونجے گی۔

آج ہم تمہیں اسی طرح بھولا دیں گے جس طرح تم نے ہمیں اور ہماری آج کے دن کی اس ملاقات کو بھولا رکھا تھا۔ اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ( جو تمہیں اس درد ناک عذاب سے نجات دے ) اس لیے کہ دنیا کی زندگی کی عیش و عشرت میں تم نے ہماری آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا۔اب نہ ہی تمہیں اس آگ سے نکالا جائے گا اور نہ ہی کوئی عذر قبول کیا جائے گا۔‘‘ (الجاثیہ34-5:45)
اگر ہمیں خود کو اللہ واحد القوی القہار کے غضب سے بچانا ہے تو ہمیں اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ دینی ہو گی اور اسے اپنی روزمرہ زندگی میں عملی طور پر اپنانا ہو گااور جہاد فی سبیل اللہ کی راہ اختیار کرنا ہوگی ۔ذرا سنجیدگی سے سوچئے کہ آخر بنی اسرائیل کا کیا قصور تھا جن پر قرآن مجید میں جگہ جگہ پر لعنت کی گئی ہے اور انہیں کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ماننے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و حاکمیت پر پختہ یقین رکھتے تھے۔مگر ان کا قصور صرف یہی تھا کہ وہ دین کی کچھ باتوں کو چھوڑ کر کفر سے مصالحت کر بیٹھے تھے اور اہل باطل کی چند باتوں کو اپنے دین میں شامل کر لیا تھا۔
آج ہمارا حال بھی بالکل یہی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی بعض باتوں پر تو عمل کرتے ہیں اور بعض سے اختلاف کرتے ہیں یا ان پر عمل نہیں کرتے۔ اس کا انجام ’’دنیا میں ذلت و رسوائی ‘‘ تو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
یورپ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم اور شعائرِ اسلام کی بے حرمتی اب ایک معمول بنتا جارہا ہے، آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کا مقصد دنیا کے ڈیڑھ، پونے دو ارب مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہوتا ہے۔ حال ہی میں فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جب کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔گستاخانہ خاکوں کی سرکاری سرپرستی میں اشاعت کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے ملک فرانس کے وزیرداخلہ جیرالڈ درمانین نے ڈھٹائی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی فرانس کےاندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ کا قانون بے لاگ ہے اگر نبی کا بیٹا سرکشی کرے تو ڈبو دیا جاتاہے، اگر نبی کی بیوی گمراہ ہو تو اسے غرق کر دیا جاتا ہے، اگر نبی کے عزیز و اقارب گستاخ ہوں تو ان پر لعنت کی جاتی ہے ’’تبت یدا ابی لھب و تب‘‘ اے ابو لہب تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ، اپنی آل اولاد سمیت تباہ ہوجائے۔‘‘ وہاں صرف اور صرف اعمال کی بنا پر فیصلہ ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق کسی نسل، نسب ، قوم یا خاندان کی بنا پر تو نہیں ہے۔بلکہ صرف اس کی بندگی اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی اتباع کی صورت میں ہے جس کے ہم پہلے سے باغی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں