0

چین دوہری گردش کا ماڈل کیوں اختیار کررہا ہے ؟

مئی میں ، چین کی مرکزی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ “ملک کی انتہائی بڑی منڈی کے فوائد اور ملک کے اندرونی مانگ کے لئے ایک نیا ترقیاتی نمونہ تیار کرے گا جس کی نمایا ں خوبی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ملکی اور بین الاقوامی گردش ہوگی۔اس کے بعد سے چین کے اندر اور باہر “دوہری گردش”گرم موضوع بن گیا ہے۔ کیا یہ اعلان چین کے نمو یا ترقی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہے؟ یہ نیا تصور کیوں متعارف کرایا گیا ، اور اس میں کون سی پالیسی تبدیلیاں لاگو ہوں گی؟
ان سوالات کے جوابات کیلئے ۱۹۷۰ کے آخر سے چین کی اصلاحات اور کھلے پن کے عمل پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ستر کی دہائی کے آخر میں ، چین کی معاشی گراوٹ کی اہم رکاوٹ زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی تھی ۔ غیر ملکی ذخائر کے بغیر ، چین اپنی برآمدات نہیں بڑھا سکتا تھا ، اور برآمدات میں مناسب اضافے کے بغیر ، غیر ملکی زرمبادلہ کی رقم حاصل نہیں کرسکتا تھا ۔ ستر کی دہائی میں سازوسامان تیار کرنے والے یعنی مینوفیکچرنگ کے شعبے کے عروج نے چین کو ڈیڈ لاک توڑنے کا موقع فراہم کیا۔ 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں چین کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں مینو فیکچرنگ نے پنپنا شروع کیا۔ اور معمولی زر مبادلہ کے ذخائر کے باوجود چینی ادارے خام مال یا پرزہ جات درآمد کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس خام مال سے حتمی مصنوعات ، چینی کاروباری اداروں کے تعاون سے ویلیو ایڈیشن کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت ہونے لگیں۔
وافر اور کم لاگت ہنر مند لیبر کے ساتھ پروسیسنگ کی تجارت نے چین کو تقابلی طور پر فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ آہستہ آہستہ ، انٹرمیڈیٹ مصنوعات کی درآمد سے لے کر برآمدات اور پروسیسنگ تک ایک لوپ قائم ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ، چینی کاروباری ادارے زیادہ ذخائر جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ زرمبادلہ میں ہونے والے اضافے سے درآمد اور برآمد کے لئے مزید انٹرمیڈیٹ مصنوعات کی درآمد کو ممکن بنایا گیا۔اس عمدہ درآمد ی و برآمدی سائیکل کے ذریعے ، چین نے تیز رفتاری کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر جمع کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ براہ راست سرمایہ کاری کے بارے میں چین کی ترجیحی پالیسی سے اس رجحان کو مزید تقویت ملی ۔
۱۹۸۸چین کے محقق وانگ جیان نے چین کی برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے “عظیم بین الاقوامی گردش” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس حکمت عملی کو حیرت انگیز کامیابی نکلی۔ 1981 میں ، چینی برآمدات اور درآمدات بالترتیب محض 22.5 بلین اور 21.7 بلین ڈالر تھیں۔ 2013 تک ، چین کی کل تجارت تقریبا$ 4.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ، جس کی وجہ سے چین دنیا میں آگے آ گیا۔ تین دہائیوں میں ، چین کی جی ڈی پی دنیا میں نیدر لینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر آگئی اور جاپان کو پیچھے چھوڑ گئی۔
لیکن جب معیشت کسی خاص نکتے پر پہنچتی ہے تو ایک حکمت عملی اپنے آپ کو نفی بھی کرسکتی ہے “عظیم بین الاقوامی گردش” ماڈل کے تحت چالیس سال کی توسیع کے بعد ، چین اب چھوٹی معیشت نہیں ہے ، اب اس کی برآمدی صلاحیت سے انکار ناممکن ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس صدی کے آغاز سے ، چین نے جو بھی مصنوعات خریدی ہیں ان کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے ، تاہم چین خود جو کچھ بیچتارہا ہے کم قیمت پر بیچتا رہا ہے ۔اس کے علا وہ چین کی زبردست ایکسپورٹ ڈرائیو سے درآمد کرنے والے ممالک میں تحفظ پسندی کے جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ چین کے خالص غیر ملکی اثاثوں کی مالیت 2 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے ، اس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے خسارے کو چلایا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ چین کے بین الوقتی اور سرحد پار وسائل کی تخصیص میں کچھ غلطیاں ہیں جن کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔

ان رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیا تصور “دوہری گردش” متعارف کرایا گیا ہے ۔ تاہم یہ چین کی نمو کے نمونے میں کسی بنیادی تبدیلی کا اظہار نہیں ہے۔ چین کی دہری گردش کی پالیسی سے باقی دنیا کے ساتھ تعاون اور ساتھ چلنے کی پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔دراصل ، ریاستہائے متحدہ کی انتظامیہ کی “ڈی کپلنگ” اور پابندیوں کی پالیسی کی وجہ سے چین کے پاس عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لئے ، دوہری گردش کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ چینی رہنماؤں نے “دوہری گردش” پر زور دینا کیوں شروع کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1.4 بلین افراد کی اس بڑی گھریلو مارکیٹ ، اور بہترین مینوفیکچرنگ صلاحیت اور جدید بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ، چین کسی بھی لیبل کے ساتھ زندہ رہ سکتاہے۔ اور اپنی ترقی برقرار رکھ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں