مزاکرات پھر ناکام، لیڈی ہیلتھ ورکرزکی پارلیمنٹ کی طرف مارچ کی دھمکی

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور محکمہ صحت کی خواتین کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا۔

کھلے آسمان تلے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور محکمہ صحت کی خواتین کے دھرنے کے  پانچ دن گزر جانے کے باوجود مذاکرات ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

مرکزی صدر لیڈی ہیلتھ ورکرز رخسانہ انور کا کہنا ہے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، مطالبات نہ مانے گئے تو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے۔

خیال رہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے سروس اسٹرکچر بدلنے، پنشن، لائف انشورنس دینے، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیومہم میں تحفظ دینے کے مطالبات کیے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے بھی کہا ہے کہ ڈی چوک پر دھرنا دینے والوں سے بہت بار مذاکرات کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی ورکرز کا کیس سروس ٹربیونل میں چل رہا ہے جب کہ ان کی منت سماجت کی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس نہ آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں