چین نے اسلحہ پر قابو پانے کے لئے نام نہاد سہہ فریقی مذاکرات کو امریکی چال قرار دیدیا

چین نے ایک بار پھر  امریکہ کی طرف سے حال ہی میں پیش کردہ نام نہاد”سہ فریقی اسلحہ پر قابو پانے کے مذاکرات” کی مخالفت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب نمائندے گینگ شوانگ نے 75 ویں جنرل اسمبلی میں اسلحہ کنٹرول اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی کی عام بحث میں خطاب کرتے ہوئےکہا  کہ بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ محض امریکہ کی ایک چال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ  دراصل امریکہ جوہری ہتھیاروں سے پاک اسلحہ بندی کے لیے اپنی خصوصی ترجیحی ذمہ داری پوری نہ کرنے کیلئے بہانہ ڈھونڈنے اورقطعی فوجی برتری قائم کرنے کی کوشش کرنے کی وجوہات تلاش کررہا ہے۔گینگ شوانگ نے کہا کہ چین اپنی حفاظت کی خاطر دفاعی جوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ،ماضی میں چین نے کبھی دوسرے ممالک کے ساتھ فوجی دوڑ میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی جوہری طاقت امریکہ اور روس کی سطح پر نہیں ہے ۔چین سے سہ فریقی اسلحہ کنٹرول کے مذاکرات میں حصہ لینے کا مطالبہ غیر منصفانہ ، غیر مناسب اور ناقابل عمل ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں