ختیارات کے غلط استعمال کا الزام غلط ثابت، سابق ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے ودیگر باعزت بری

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اختیارات کے غلط استعمال اور پلاٹو ں کی الاٹمنٹ کا الزام غلط ثابت ہونے پر عدالت نے سابق ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سمیت دیگر ملزموں کو باعزت بری کر دیا۔ ملزموں کی پیروی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، سینئر قانون دان حافظ خان محمد ماہل اور ملک نصرت ماہل نے کی۔ جج نیب کورٹ محمد بشیر نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ موضع بادیہ قادر بخش میں پلاٹوں کی مبینہ غلط الا ٹمنٹ اور اختیارات تجاوز کے الزامات کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔تقریباً دس برس تک کیس کی سماعت مختلف عدالتوں میں ہوتی رہی، مگر نیب الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ حافظ خان محمد ماہل اور ملک نصرت ماہل کے دلائل کے بعد عدالت نے کہا کہ جس معاملے پر سول عدالت نے فیصلہ کر دیا ہو اسے بار بار زیر سماعت نہیں لایا جاسکتا۔اختیارات کا غلط اور اضافی استعمال صرف الزام تک نہیں ، عملی طور پر اسے ثابت کرنا ہوتا ہے، کیونکہ قانون ٹھوس شواہد کو مانتا ہے۔نیب نے اصل واقعات اور حقائق کو چھپا کر عدالت کا وقت ضائع کیا۔عدالت نے مکمل دلائل سننے کے بعدسابق ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے چوہدری محمد اسلم اور دیگرہمراہی ملزموں کو بری کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں