78

وبائی امراض کے دوران میڈیا کا تعمیری کردار

ہمارا میڈیا جس طرح غیر ذمہ داری سے کرونا وائرس کا نفسیاتی خوف صبح شام خبریں اور دیگر ٹاک شو میں پھیلا رہا ہے اس کے اثرات ہر شخص پر کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں، گو کہ اس میں میڈیا کی بدنیتی شامل حال نہیں لیکن ایسے پروگرامز کے منفی اثرات کو بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
کچھ ٹی وی چینلوں نے اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی ہے کہ وہ ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کر رہے ہیں اور ان کو اپنے پروگراموں میں مدعو کرکے عوام میں شعور بیدار کر رہے ہیں کہ ہم نے کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں بلکہ اس کے خلاف لڑنا ہے تاہم ایسے پروگراموں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس سلسلے میں بہتر ہے کہ ماہرین نفسیات کی گائیڈ لائن کو مدنظر رکھ کر کرونا وائرس کے حوالے سے مثبت پروگرام نشر کیے جائیں جس سے خوف و ہراس کی فضا پیدا نہ ہو۔
اس بات سے تو کوئی انکاری نہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ آپ لاک ڈاون کریں، دیگر حفاظتی تدابیر اپنائیں مگر خدارا خوف و ہراس پھیلا کر مینڈک اور سانپ کی کہانی نہ دہرائیں، جس میں مینڈک اور سانپ کی شرط لگی، اور سانپ نے ایک آدمی کو ڈسا، مگر سامنے مینڈک آیا تو وہ ہنس کر آگے چل دیا۔ کچھ دیر کے بعد مینڈک نے کاٹا اور سامنے سانپ آیا تو آدمی کا دہشت کے مارے ہارٹ فیل ہو گیا۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ میڈیا کی طرف سے دن رات مسلسل کرونا کرونا کرتے کرتے کمزور دل اور وہمی حضرات و خواتین معمولی کھانسی زکام سے مرنے لگیں۔
اسی حوالے سے آل پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور CRISA تھنک ٹینک نے وبائی امراض کے دوران میڈیا کا تعمیری کردار
پر آن لائن سیمینار کا انعقاد کیا ، جس میں ملک کے نامور صحافیوں نے شرکت کی۔

1 ۔ظہیر عالم
ایڈیٹر نیوز اپ ڈیٹس، سینئر صحافی، تجزیہ نگار اور چیئرمین آل پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن
2 ۔شاہد افراز خان
ریڈیو پاکستان کے سینئر پرودیوسر ، کالم نگار،اور ایک کتاب چین میری نطر میں کے معاون مصنف بھی ہیں، آج کل چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ بیجنگ میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
3 ۔شاکراللہ
فارن ایکسپرٹ چائنا ریڈیو انٹر نیشنل ،پروگرام مینیجر ریڈیو پاکستان،ایم ایس میڈیا سٹڈیز
4رفاقت حسین
سیکرٹری جنرل جرنلسٹس فائونڈیشن، سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں
5 ۔سہیل صدیق انصاری
براڈ کاسٹر ، لکھاری، نقاد ، چیف ایگزیکٹو CRISA
6 ۔فہد نذیر
صدر آل پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن

ظہیر عالم
ایک دور تھا جب ہمیں اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے لئے دور دراز کا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور ایک محدود طبقہ شہر یا علاقے تک ہماری بات بمشکل تمام پہنچ پاتی تھی لیکن آج سوشل میڈیا کے ذریعے ہم اپنی باتوں کو جند منٹوں میں ایک عالم تک پہنچارہے ہیں۔ دور موجود میں یہ قدرت کا ایک بڑا انعام ہے۔ اگر ہم دین کا شعور رکھتے ہیں تو دین کی آبیاری اور اسکی پرامن دینی و اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کیلئے اس کا استعمال بخوبی کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے نسل نو کی زندگی کا رخ ڈگر سے بھٹک رہا ہے۔ اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں۔ تعمیری فکر پروان چڑھنے کے بجائے تخریب کاری کا رجحان غالب ہو رہا ہے ۔ہمارا میڈیا جس طرح غیر ذمہ داری سے کرونا وائرس کا نفسیاتی خوف صبح شام خبریں اور دیگر ٹاک شو میں پھیلا رہا ہے اس کے اثرات ہر شخص پر کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں، گو کہ اس میں میڈیا کی بدنیتی شامل حال نہیں لیکن ایسے پروگرامز کے منفی اثرات کو بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔کچھ ٹی وی چینلوں نے اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی ہے کہ وہ ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کر رہے ہیں اور ان کو اپنے پروگراموں میں مدعو کرکے عوام میں شعور بیدار کر رہے ہیں کہ ہم نے کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں بلکہ اس کے خلاف لڑنا ہے تاہم ایسے پروگراموں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس بات سے تو کوئی انکاری نہیں کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ آپ لاک ڈاون کریں، دیگر حفاظتی تدابیر اپنائیں مگر خدارا خوف و ہراس پھیلا کر مینڈک اور سانپ کی کہانی نہ دہرائیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میڈیا کی طرف سے دن رات مسلسل کرونا کرونا کرتے کرتے کمزور دل اور وہمی حضرات و خواتین معمولی کھانسی زکام سے مرنے لگیں۔میرے خیال میں ہمارے میڈیا کے ارباب اختیار کو بھی مل بیٹھ کر ایسے صحت مندانہ پروگرام ترتیب دینے چاہییں جس سے خوف و ہراس کی بجائے عوام میں کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کا حوصلہ پیدا ہو۔خاص طور پر اس وقت قوم جس نفسیاتی خوف کا شکار ہے اس کو دور کرنے کے لیے ماہرین نفسیات سے مدد لی جائے۔ ہمارا میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں میڈیا کا آگاہی کردار نہایت اہم ہے۔ میڈیا عوام کی درست معلومات تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ آج کی جدید دنیا میں لوگوں کے پاس معلومات کے بے شمار وسائل دستیاب ہیں۔
حقائق کے تناظر میں عالمگیر وبا عالمی میڈیا کا بھی ایک کڑا امتحان ہے۔میڈیا تاریخ کو ریکارڈ کرتا ہے جہاں سچ کسی خبر کی بنیاد ہے لیکن بدقسمتی سےمیڈیا اداروں کی جانب سے سنسنی خیز اور بریکنگ نیوز کے چکر میں ایسی معلومات بھی سامنے آتی ہیں جن کا حقیقیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔نوول کرونا وائرس کے حوالے سے ایک جانب کیسوں کی تعداد میں اضافے اور اموات کا زکر تو شہ سرخیوں میں کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب صحت یابی کی شرح یا پھر دیگر کامیاب پیش رفت کی اُس طرح پزیرائی نہیں کی جاتی جو لازم ہے اور معاشرے کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب ہو سکتی ہے۔میڈیا عوام میں آگاہی کو فروغ دے سکتا ہے کہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے سے کیسے وائرس سے خود کو اور دیگر لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے،ہاتھوں کو دھونے یا جسمانی صفائی کی کیا اہمیت ہے، میڈیا عوام میں سادہ طرز عمل کو فروغ دے سکتا ہے کہ لازمی تو نہیں کہ نئے کپڑوں ،جوتوں کے بناء عید نہیں ہو گی ۔یہی پیسے آپ کسی ایسے سفید پوش انسان کو دے سکتے ہیں جو وبا کے باعث بیروزگار ہے یا جس کے وسائل محدود ہیں۔ میڈیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے سے وہ انسداد وبا کی کوششوں میں انسانی جانوں کے تحفظ اور صحت عامہ کے فروغ سے سماج کو توانائی فراہم کر رہے ہیں۔
چین نے اگر نوول کرونا وائرس کے خلاف کامیابیاں سمیٹی ہیں تو اس میں چینی میڈیا کا بھی ایک کلیدی کردار رہا ہے۔چینی میڈیا نے نہ تو سنسنی پھیلائی اور نہ ہی عوام کو مایوس کیا بلکہ شفافیت ،غیر جانبداری اور حقائق کے تحت بروقت تمام لازمی امور سے عوام کو آگاہ رکھا۔چینی میڈیا نے ایسے تمام افراد کو ہیروز کے طور پر پیش کیا جو انسداد وبا کی کوششوں میں مصروف رہے جن میں طبی عملے سمیت امدادی کارکنوں کا تذکرہ قابل زکر ہے۔اسی باعث عوام کے مورال میں بھی اضافہ ہوا اور آگاہی کے فروغ سے انہیں وائرس کی تباہ کاریوں سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہد افراز خان
میڈیا ادارے وبائی صورتحال کی رپورٹنگ کے دوران سب سے پہلے اگر اپنے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں تو یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔ رپورٹرز اور فیلڈ میں کام کرنے والے کارکنوں کو ماسک سمیت دیگر امدادی سامان کی فراہمی لازم ہے بالخصوص عوامی مقامات مثلاً اسپتال وغیرہ کے دوروں کے دوران حفاظتی اقدامات لازم ہیں۔نوول کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی شناخت کو اگر خفیہ رکھا جائے تو اس سے متاثرہ مریضوں کی سماجی زندگی متاثر نہیں ہو گی۔چین اور دیگر ممالک میں اسی بات پر عمل کیا گیا ہے اور مریضوں کے چہرے تک چھپائے گئے ہیں۔
سنسنی خیز اور بریکنگ نیوز کے چکر میں حقائق کے برعکس منفی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔وبا سے متعلق مستند معلومات صرف مستند اداروں سے حاصل کی جائیں اور پھر رپورٹ کی جائیں۔سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانے سے گریز کی جائے۔میڈیا کا سب سے اہم تعمیری کردار وبا سے متعلق آگاہی کا فروغ ہے۔ سماجی دوری کے فوائد ،ماسک کا استعمال ، جسمانی صفائی کی اہمیت جیسے موضوعات پر بار بار بات کی جائے تاکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جا سکے ۔ میڈیا عوام میں آگاہی کو فروغ دے سکتا ہے کہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے سے کیسے وائرس سے خود کو اور دیگر لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے،ہاتھوں کو دھونے یا جسمانی صفائی کی کیا اہمیت ہے۔
وبائی صورتحال میں لوگوں میں امید اور حوصلہ افزائی کے لیے صحت یاب مریضوں کے اعداد و شمار کو زیادہ اجاگر کریں۔ مریضوں کی تعداد ضرور بتائی جائے لیکن صحت یابی سے متعلق مثبت کیسز معاشرے میں امید کا پیغام ہیں۔چین میں میڈیا نے اس پہلو کو نمایاں طور پر سامنا لایا ہے۔وبا کے دوران میڈیا کا کردار یہ بھی بنتا ہے معاشرے کے اُن گمنام ہیروز کو بھی سامنے لائیں جو اس مشکل گھڑی میں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی زندگیاں بچانے میں مصروف ہیں۔ان میں ڈاکٹرز،نرسز اور دیگر امدادی کارکن بھی شامل ہیں
روایتی میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا شائد فوری اطلاعات کی فراہمی کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے مگر مصدقہ اور غیر مصدقہ معلومات میں تفریق یقیناً کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔وبائی صورتحال میں افواہوں ،مفروضوں ، فیک نیوز یا غلط معلومات کا سامنے آنا صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔اس لیے میڈیا اس حوالے سے بھی مستقل بنیادوں پر عوام کو آگاہ رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاکراللہ
میڈیا اب اس طرح نہیں رہا جس طرح آج سے چند سال پہلے ہواکرتاتھا پہلے صرف پرنٹ میڈیا تھا اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی ساتھ شامل ہوگیا تاہم انقلاب اس وقت آیا جب سوشل میڈیا بھی اس صف میں شامل ہوگیا اور رسائی کے اعتبار سسے سب سے طاقتور ہوگیا اس کے ساتھ ٹیکنالوجی اور گیجٹس کی ترقی نے میڈیا کی ہیت اور شکل کو اور بھی بدل دیا موبائل یا پام ٹاپ کی شکل میں میڈیا ہر فرد تک پہنچ گیاہے جس کو پڑھنا نہیں آتا اس تک ویڈیو اور آڈیو کی شکل میں پیغامات پہنچ رہے ہیں اور جو خود ٹائپ نہیں کرسکتے وہ وائس اور ویڈیو میسیجز کے ذریعے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا رہےہیں ۔
لہذا ایک طاقتورمیڈیا دور میں کرونا وائرس حملہ آور ہوا پہلے چین اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا اور روزانہ اور ٹاب آف دی آور شہ سرخی بن گیا، پرنٹ میڈیا کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا ۔سوشل میڈیا تو ویسے بھی اس کے حصار میں پہلے ہی آچکا تھا ۔ شاید معلوم تاریخ میں کوئی اور چیز خبروں میں اس طرح تواتر کے ساتھ اتنے لمبے عرصے تک رہی ہو اور ابھی یہ سلسہ جاری ہے سوال یہ ہے کہ میڈیا نے اس دوران اس کی کوریج میں کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ؟
میرے خیال میں مجموعی طور پر میڈیا نے اس دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور لوگوں کو نہ صرف کرونا کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس سے محفوظ رہنے کیلئے مثبت پیغامات بھی دیے ہیں۔ شاید اس کی وجہ کرونا کا بہت زیادہ متعدی ہوناہے یہ ایک ایسی آگ ہے جسے اگر نہیں بجھایا جاتا تو یہ ہر ایک کی دہلیز تک پہچ جاتاہے ۔ کرونا کے ساتھ بدیانتی ممکن ہی نہیں۔
1. دوسری وجہ یہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے میڈیا کیلئے کنٹیٹ اتنا زیادہ ہے کہ اس کو نظر انداز کرتامشکل ہے نہ صرف پوری دنیا سے اعدادو شمار اور دوسری متعلقہ سٹوریزوافر مقدار میں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں بلکہ مقامی طورپر بھی اس حوالے سے خبروں کی بھر مارہے لہذا میڈیا کیلئے یہ سب کچھ نظر انداز کرنا یا غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیش کرنا ناممکن ہوگیا ہے ۔
2. اس دوران دیکھا گیا کہ امریکہ نے کرونا کو چین کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ،لیکن حقائق اتنے زیادہ ہیں کہ اس کو سیاسی مقصد یا کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا ناممکن ہے ۔ میڈیا کے پاس حقائق بیان کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ ہے ہی نہیں کیونکہ کرونا وائرس ایک عالمگیر حقیقت بن گیاہے ۔جسے نہ چھپایا جاسکتاہے نہ کوئی اور رنگ دیا جاسکتاہے ۔ اور جو میڈیا ایسا کرتاہے وہ اپنی ساکھ اور کریڈیبلٹی خراب کرتاہے ۔
3. پاکستان میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان کورنا پر بیان بازی کاسلسلہ چل رہاہے لیکن دونوں طرف کے بیانات میڈیا زمہ داری کے ساتھ نشر کررہاہے ایسے میں دونوں اطراف کا رویہ بچگانہ لگ رہاہے تاہم میڈیا حقائق پہنچارہاہے ۔اور سب کے سامنے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کررہاہے ۔
4. سوشل میڈیا پر شروع میں کچھ گڑ بڑ ضرور ہوئی جب کچھ دیسی ٹوٹکے کرونا کے علاج کیلئے وائرل ہوئے اور وائرس کے مصنوعی ہونے یا کسی سازش کا نتیجہ ہونے کے بارے میں مختلف خبریں پھیلائی گئیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سب سازشی مفروضوں اور غیر مصدقہ مواد کے غباروں سے ہوا نکل گئی ۔ کرونا ایک عالمگیر حقیقت کے طور پر اس وقت میڈیا میں موجودہے جس کی کوریج میں میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کررہاہے۔
5. اس دوران وہ لکھاری جو روایتی سیاسی معاملات پر لکھتے ہیں ، ان دنوں ان کے پاس کرونا کے علاہ دوسرا کوئی موضوع نہیں رہا۔ وہ لکھ تو رہے ہیں لیکن اس موضوع پر ان کے آرٹیکز میں وہ چیز نہیں ہے جو ان کا خاصہ تھا لہذا ان کیلئے بھی یہ ایک مشکل وقت ہے کیونکہ اس موضوع پرلکھتے وقت اکثرقلم ان کا ساتھ نہیں دیتا تاہم دوسری طرف باقی موضوعات پر لکھنا غیر اہم لگتا ہے۔
6. میڈیا کیلئے اب بھی بڑا چیلنچ ہے کہ لوگوں کو کرونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی دیتے رہیں اپنے یو زرز کو نیو نارمل کی طرف راغب کرتے رہیں آمادہ کرتے رہیں اور ان کو کرونا کے حوالے سے ریلیکس نہ ہونے دیں دوسری طرف ان کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو بھی یقینی بنائے ویکسین کی تیاری اور مختلف ادویہ کی اثرپذیری کے بارے میں ان کو بتاتے رہیں ۔ طبی ورکرز کی حفاظت کیلئے آواز بلند کرتے رہیں ،کرونا کے حوالے معاشی اور دوسرے مسائل اجاگر کرتے رہیں اور مستقبل میں ایسی عا لمگیر وباوں کی روک تھا م اور مقابلے کیلے نقارہ بجاتے رہیں۔ابھی کافی لمبا سفر باقی ہے ۔
7. دنیا کی ایک معروف سماجی و کاروباری شخصیت اور ای کامرس کے حوالے سےمشہور عالمی ادارے علی بابا کے بانی جیک ما کا حالیہ دنوں ایک بیان نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کہا کہ” رواں برس انسانی جان کا بچ جانا سب سے بڑا منافع ہے”۔ اگر عالمگیر وبا کووڈ۔19 کی تباہ کاریوں کو دیکھا جائے تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ انسانیت کی بقاء اس وقت ایک کٹھن آزمائش سے دوچار ہے اور ان دیکھا دشمن بھی وہ ہے جس کے مقابلے میں دنیا کے پاس فی الحال ہتھیار بھی موجود نہیں ہیں۔
8. اگرچہ دنیا کے مختلف ممالک میں وقت کی تیز رفتاری کا مقابلہ کرتے ہوئے عالمگیر وبا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں مگر طبی ماہرین کے نزدیک یہ کام دنوں یا ہفتوں میں ممکن نہیں ہے بلکہ سال کے اواخر تک شائد اس حوالے سے دنیا کو کسی قسم کی خوشخبری مل سکے۔بلاشبہ موجودہ صورتحال کو انسانیت اور نوول کرونا وائرس کے درمیان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے جسمیں فتح کا حصول ہی انسانی ترقی کی ازسرنو بنیاد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
رفاقت حسین

پوری دنیا میں لاکھوں افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں ، یورپی ممالک میں خطرناک حد تک شرح اموات میں اضافہ ہو چکا ہے
تاہم پاکستان میں صورت حا ل خطرناک نہیں لیکن اب عوام کی لا پرواہی کی وجہ سے وباء دن بدن بے قابو ہو تی جا رہی ہے،اگر ہم نے قوم بن کر وباء کو سنجیدہ نہ لیا تو پھر ہمارا بھی اللہ حافظ ہے ، فروری کے آ خر میں نمودار ہو نے والی کرونا نام کی وبا ء نے امر یکہ جیسی سپر پا ور سمیت پو ری دنیا کو بے بس کر کے رکھ دےا ہے ۔ وطن عزیز میں ڈاکٹرز، پےرامیدیکل سٹاف، افواج پا کستان سمیت جہاں دےگر ادارے وبا ء کےخلاف متحرک ہےں وہاں ملک کے چوتھے ستون صحافت کے سپاہی بھی اپنی مدد آپ کے تحت دن رات ایک کر کے کرونا کےخلاف جنگ میں فر نٹ لائن کا کر دار ادا کر تے ہو ئے سچ ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچا نے میں مصروف ہیں ،صحا فی فےلڈ میں حکومت اور صحافتی اداروں کی سر پرستی کے بغیر کرونا سے بچاءو کےلئے گھر گھر آگاہی پہنچانے میں مصروف ہے- حفاظتی اقدامات نہ ہو نے کی و جہ سے راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر سے سےنکڑوں صحافی اس موذی و باء کا شکار ہو نے کے باوجود دیگر اداروں کے ہمراہ شانہ بشانہ فر نٹ لائن پر کھڑے ہیں ۔ کرونا وائرس سے متاثرہ صحافی حسب سابقہ اپنے فراءض سر انجام دے رہے ہےں ،شروع شروع میں جب موذی و با ء نے پاکستان میں اپنے قدم جمانے شروع کئے تو80 فےصد پاکستانیوں نے اس و با ء پر بالکل بھی یقین نہ کرتے ہو ئے ٹوپی ڈرامہ قرار دےدیا اس مشکل وقت میں میڈیا نے اپنا مثبت کر دار ادا کر تے ہو ئے دن رات عوام کو یقین دہانی کرانےکے لئے خصوصی پروگرام کئے، کالم لکھے کہ اس کرونا نما و با ء کو مذاق نہ سمجھاجا ئے اوراگر فو ری طو ر پر حکومتی احکامات پر عمل نہ کیا تو پھر اس کے خطر ناک نتائج برآمد ہو نگے، میڈیا کی مثبت آگاہی مہم کی وجہ سے اب کسی حد تک عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل کر نا شروع کر دیا ہے لیکن ابھی بھی شہریوں کی اکثر یت سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ موجودہ مشکل تر ین حالات میں والدین صحا فی بیٹے اور بیٹیوں کوبغیر کسی حفاظتی اقدامات کے حوصلے اور جذبے سے روزانہ ڈیوٹی پربھیجتے ہیں کہ ان کے نزدیک انسانیت کی خدمت سب سے عظیم کام ہے اور یہ جذبہ ان کے خدشات اور تشویش پر ہمیشہ غالب رہتا ہے ۔
حکو مت بھی با ر بار خبردار کر رہی ہے کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنیے والاہے ۔ اگلے دو ماہ اہم ایس او پیزپر عمل کریں تو کرونا کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت ملک میں کرونا کے باعث ہنگامی صورتحال اور نامصائد حالات کے پیش نظر مشکلات ضرور ہیں جیسا کہ صحافیوں کو حفاظتی کٹس اور وسائل پوری طرح دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ ایک جنگ کی سی صورتحال ہے اور اس میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے اور ایسے حالات میں زندہ رہنا اور جدوجہد کرنا زندہ قوموں کی نشانیاں ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہیل صدیق انصاری
31دسمبر 2019 میں چین میں سامنے آنیوالا وائرس تھوڑے ہی عرصے میں پوری دنیا کیلئے خوف اور موت کی علامت بن گیا ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 اب تک سامنے آنے والے وائرسز میں سے خطرناک ترین ہے،جو اپنی پیچیدہ میوٹیشن کے باعث انسانی مدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کر کے اسکی زندگی ہی داوَ پر لگا دیتا ہے ۔ اس کا مین ٹارگٹ نظام تنفس اور نظام انہضام ہے ۔ ابھی تک اس عالمی وبا کی کوئی ویکسین یا مکمل علاج موجود نہیں ۔ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی اس سے بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے ۔ عالمی طور پرپر لاکھوں زندگیاں نگلنے والی بیماری کرونا کے بارے میں مختصراً بیان کردہ اور آج کی دستیاب تمام تر معلومات صرف اور صرف میڈیا کی بدولت ہیں ۔ میڈیا ہی دراصل وہ میڈیم اور ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ہونے والی کسی بھی اچھی یا بری تبدیلی کی بر وقت اطلاع ، احتیاط، علاج، مسئلے کی نشاندہی ، حل اور تمام تر آگاہی کا کریڈٹ رکھتا ہے ۔ وبائی امراض کی اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو جب بھی وبا دنیا کے مکینوں پر آفت بن کے ٹوٹی، اس وقت طبی عملے کے علاقہ فرنٹ لائن میں صرف اور صرف میڈیا کے کارکن ہی نظر آئے ۔ میڈیا نے ہی لمحہ بہ لمحہ آگاہی کا فریضہ سرا نجام دیا ۔ عملی فیلڈ کی حقیقی صورتحال، الرٹس، معلومات ، وارننگ اور تما م اپ ڈیٹس کو ہر لمحے ہر دیکھنے، سننے اور پڑھنے والے سے شیئر کیا ۔ میڈیا کا کردار ہنگامی طبی صورتحال میں اتنا اہم بن جاتا ہے کہ اطلاعات و معلومات کا کم وقت میں بہتر انداز میں کروڑوں ، اربوں لوگوں تک جو کسی بھی آفت یا وبا کے باعث محصور ہوں ، ممکن ہی نہیں ۔ غیر معمولی صورتحال میں اگر پیشینگوئی ہو بھی تو وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی بڑی اور خوفناک تبدیلیوں اور ان کے خوفناک و تباہ کن اثرات کو جان اور جانچ کر ہی ان سے محفوظ رہنے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے، جس کے لیے میڈیا کے ہتھیا ر موَثر کن اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ کووڈ نائنٹین جیسا اجتماعی قاتل آج دنیا کے ہر باسی کیلئے اک ڈراوَنا خواب ہے ۔ حقائق تک رسائی اور ان میں لمحہ بہ لمحہ قابل قدر اضافے پر نظر رکھ کر مستقبل کی پیش بندی کرنے کیلئے بڑے دماغوں اور عالمی اداروں کو میڈیا کے سہارے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ کرونا نے دنیا کی معیشت کی بیڈ بجا کر آنے والے کئی عشروں تک اچھے خاصے بہتر اعشاریوں کے حامل اقتصادی طور پر مستحکم اداروں اور ممالک کوریڈ زون میں لاکھڑا کیا ہے، جس کو پرانی جگہ پر لانے کی کہانی تو دور کی بات ہے، ابھی تو یہ آفت ٹلنے کا نا م ہی نہیں لے رہی ۔ مستقبل کے پوشیدہ خطرات کا اندازہ لگانے، ماضی کے بارے میں منطقی تبصرہ ہو یا موجودہ صورتحال سے آگاہی، میڈیا کا کردار ہی حتمی کردار ادا کرتا ہے ۔ رابطوں کا پل بنا کر ہی اس ڈیجیٹل دور میں ترقی کا دامن تھاما جا سکتا ہے ، اپنی اور اپنوں کی حفاظت، ان کی خبر گیری اور تما م تر تبدیلیوں سے بر وقت آگاہ رہا جا سکتا ہے ۔ مقامی سطح ہو یا عالمی منظر نامہ میڈیا ایک پل کی طرح معاشرے کے تما م طبقات، ملک کے تما م یونٹس و اداروں ، اقوام اور تنظیموں کے مابین عالمگیر اشتراک عمل کے قیام کے لیے ناگزیر حیثیت میں کام کرتا رہے گا، جس کے کردار ، معاونت اور فائدے سے کسی کو انکار نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہد نذیر

حقائق کے تناظر میں عالمگیر وبا عالمی میڈیا کا بھی ایک کڑا امتحان ہے۔میڈیا تاریخ کو ریکارڈ کرتا ہے جہاں سچ کسی خبر کی بنیاد ہے لیکن بدقسمتی سےمیڈیا اداروں کی جانب سے سنسنی خیز اور بریکنگ نیوز کے چکر میں ایسی معلومات بھی سامنے آتی ہیں جن کا حقیقیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔نوول کرونا وائرس کے حوالے سے ایک جانب کیسوں کی تعداد میں اضافے اور اموات کا زکر تو شہ سرخیوں میں کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب صحت یابی کی شرح یا پھر دیگر کامیاب پیش رفت کی اُس طرح پزیرائی نہیں کی جاتی جو لازم ہے اور معاشرے کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب ہو سکتی ہے۔میڈیا عوام میں آگاہی کو فروغ دے سکتا ہے کہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے سے کیسے وائرس سے خود کو اور دیگر لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے،ہاتھوں کو دھونے یا جسمانی صفائی کی کیا اہمیت ہے، میڈیا عوام میں سادہ طرز عمل کو فروغ دے سکتا ہے کہ لازمی تو نہیں کہ نئے کپڑوں ،جوتوں کے بناء عید نہیں ہو گی ۔یہی پیسے آپ کسی ایسے سفید پوش انسان کو دے سکتے ہیں جو وبا کے باعث بیروزگار ہے یا جس کے وسائل محدود ہیں۔ میڈیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے سے وہ انسداد وبا کی کوششوں میں انسانی جانوں کے تحفظ اور صحت عامہ کے فروغ سے معاشرے کو توانائی فراہم کر رہے ہیں۔
چین نے اگر نوول کرونا وائرس کے خلاف کامیابیاں سمیٹی ہیں تو اس میں چینی میڈیا کا بھی ایک کلیدی کردار رہا ہے۔چینی میڈیا نے نہ تو سنسنی پھیلائی اور نہ ہی عوام کو مایوس کیا بلکہ شفافیت ،غیر جانبداری اور حقائق کے تحت بروقت تمام لازمی امور سے عوام کو آگاہ رکھا۔چینی میڈیا نے ایسے تمام افراد کو ہیروز کے طور پر پیش کیا جو انسداد وبا کی کوششوں میں مصروف رہے جن میں طبی عملے سمیت امدادی کارکنوں کا تذکرہ قابل زکر ہے۔اسی باعث عوام کے مورال میں بھی اضافہ ہوا اور آگاہی کے فروغ سے انہیں وائرس کی تباہ کاریوں سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔

اگر مغربی میڈیا کی بات کریں تو چند اداروں کی توجہ کا نکتہ آج بھی وائرس کا ماخذ اور سازشی نظریات پر بات کرنا ہے۔اس سے قطع نظر کہ وائرس سے متعلق سائنسدان اور ماہرین ہی حتمی رائے دے سکتے ہیں ،میڈیا ادارے بھی وائرس کو “سیاسی رنگ” دینے میں بھرپور مصروف ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ مغربی معاشروں میں ایشیائی باشندوں کے خلاف امتیازی سلوک کے کئی واقعات سامنے آئے اور دوسرا کئی ممالک کی ساکھ کو بھی منفی رپورٹنگ کے باعث نقصان پہنچا۔یہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عالمگیریت کے اس دور میں پوری دنیا ایک دوسرے سے منسلک ہے اور یہی حال میڈیا اداروں کا بھی ہے۔کسی ایک بڑے میڈیا ادارے کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات فوری دنیا کے دیگر میڈیا اداروں تک پہنچ جاتی ہیں۔مصدقہ یا غیر مصدقہ کا تذکرہ تو الگ بات ہے کیونکہ عوام کی کثیر تعداد بھی میڈیا کی معلومات پر ہی بھروسہ کرتی ہے اور یہی معلومات بناء کسی توقف کے فوری آگے پہنچا بھی دی جاتی ہیں۔

عالمگیر وبا کی روک تھام میں جہاں ہم عالمی ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون پر زور دیتے ہیں وہاں دوسری جانب میڈیا اداروں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور وبا کے خلاف جنگ میں صحت عامہ کے تحفظ سے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں میڈیا انسانیت کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے آگاہی کردار سے انتہائی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔اسی چیز کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے حالیہ دنوں بیلٹ اینڈ روڈ نیوز نیٹ ورک کی جانب سے دنیاکے اٹھانوے ممالک کے دو سو سے زائد میڈیا اداروں کو ایک کھلا خط تحریر کیا گیا جسمیں زور دیا گیا کہ عوام کو امید ،حمایت اور اتحاد کا پیغام دیں۔عوام کو بتایا جائے کہ کس طرح چند ممالک نے انسداد وبا کے بہتر اقدامات سے وبا پر موئثر طور پر قابو پایا ہے ،عوام میں ایک دوسرے کی مدد کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے میڈیا کام کرے۔
اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جب عوام متحد ہوں گے تو کسی بھی چیز کا حصول دشوار نہیں ہو سکتا ہے۔نوول کرونا وائرس کے خلاف بھی فتح کے حصول کے لیے پوری دنیا کو ایک متفقہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا، آپسی سیاسی اختلافات اور الزام تراشی کی مزید گنجائش نہیں ہے۔ عالمگیر وبا کو شکست دینے کے لیے عالمگیر تعاون بنیاد ہے۔اگر وائرس بناء کسی تمیز اور تفریق کے امیرغریب،چھوٹے بڑے ، ہر ایک کو نشانہ بنا رہا ہے تو ایسے دشمن کے خلاف جیت کے لیے انسانیت بھی بناء کسی تمیز کے یکساں اور مشترکہ ردعمل کا مظاہرہ کرے۔
آخر تمام احباب کا شکری جنہوں نے اتنے قلیل وقت میں میری ٹیم کی آواز پر لبیک کہا اور اس تعمیری اور اصلاحی موضوع پراپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں