47

ترکی اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

استنبول(سپیشل رپورٹ) ترکی کی عدالت نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزمان کے ٹرائل کا آغاز کردیا۔عرب میڈیا کے مطابق ترکی کی عدالت نے سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس میں نامزد 20 سعودی شہریوں کا اوپن ٹرائل شروع کردیا، عدالت 20 ملزمان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلائے گی۔

استنبول کی عدالت نے جمعہ کے روز سے جمال خاشقجی قتل کیس کے ملزمان کے ٹرائل کا آغاز کیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ 59 سالہ سعودی شہری جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی شادی کے سلسلے میں دستاویزات کے حصول کے لیے گئے تھے۔

جمال خاشقجی کے قتل پر ترک حکام کا کہنا تھا کہ قاتلوں نے قونصلیٹ میں سعودی صحافی کی لاش کے ٹکڑے کیے جس کی باقیات اب تک نہیں مل سکی ہیں۔عرب میڈیا کا بتانا ہےکہ مارچ میں ترک پراسکیوٹر نے اس کیس میں 20 سعودی شہریوں کو شامل کیا تھا جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے انتہائی قریبی 2 سابق ساتھی بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق فرد جرم میں سعودی عرب کے سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد العسیری پر جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی اور ڈیتھ ٹیم بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ سابق میڈیا ایڈوائزر سعود ال قہتنی پر قتل کے احکامات دینے سے قبل آپریشن کی سربراہی کرنے کا الزام ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق دیگر مشتبہ ملزمان میں اہم سعودی افسران شامل ہیں جنہوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا جب کہ ترکی کے پراسکیوٹرز نے پہلے ہی ان ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں

۔واضح رہےکہ جمال خاشقجی کے قتل کے الزامات سعودی حکومت پر عائد کیے گئے تھے اور ترک صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی حکومت کی طرف سے انتہائی اعلیٰ سطح پر دیا گیا۔

دسمبر میں سعودی عدالت نے جمال خاشقجی قتل کیس میں 5 افراد کو سزائے موت سنائی تھی جب کہ تین کو جیل بھیج دیا تھا۔مئی میں جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح نے اپنے بیان میں کہا تھاکہ ان کے اہلخانہ نے باپ کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں