50

عمران خان نےاسمبلی میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا کھچاچھٹا کھول دیا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 20 ارب ڈالر خسارے کی اکانومی ملی،جب اکانومی ملی تب 60 ارب ڈالر امپورٹ پر خرچ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ کی اسٹیج پر تھا اس وجہ سے دوست ممالک سے مدد مانگی۔
انہوں نے اجلاس کے دوران بتایا کہ 20 ارب ڈالر سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر تک لے کر آگئے،موجودہ حکومت میں پرائمری ڈیفیسٹ ختم ہوگیا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں جیسی اکانمی ملی تھی اسی کو لے کر آگے بڑھنا تھا،20 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،دنیاجب کسی اکانمی کو دیکھتی ہے تو ایک فیگر دیکھتی ہے کہ ملک میں ڈالر زیادہ آ رہے ہیں یا باہر زیادہ جا رہے ہیں۔

کشمیریوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وجہ سے دنیا نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو واضح طور پر دیکھا،آج عالمی رہنما بھی مقبوضہ کشمیرمیں بربریت کی بات کر رہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ جب ملک کی ایلیٹ ہی کرپشن پر لگی ہو تو ترقی کیسے کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے کہا جاتا ہے سیاسی انتقام لیاجا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد بہت سے ممالک نے لاک ڈاون کیا۔۔

جب ہم نے بیرونی دنیا کو دیکھا تو صوبوں نے بھی اپنے طور پر قدم اٹھانا شروع کر دیئے، پہلے دن سے خدشہ تھا کہ مغرب چین یا امریکا کو نقل کریں گے تو نقصان ہوگا کیوں کہ ہماری صورتحال ان سے مختلف ہے، پاکستان میں کچی آبادیاں اور غریب بستیاں ہیں، ہمارے پاس دوہری مشکل ہے، ہم نے ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک سے بچانا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے ہمارے بعد لاک ڈاون کیا، سخت لاک ڈاون کے باوجود بھی بھارت میں متاثر افراد کی تعداد ہم سے ذیادہ ہے، جس طرح کا لاک ڈاون ہمیں لگانے کا کہا جارہا تھا بھارت نے لگایا تو 34 فیصد لوگ شرح غربت سے نیچے چلے گئے، ندوستان کے لاک ڈاوٴن کے بعد مجھ پر دباوٴ زیادہ بڑھ گیا، خود میری کابینہ کا مجھ پر پریشر تھا، لیکن مجھے غریب طبقے کی فکر تھی، اگر ہماری معیشت سنگاپور کی طرح ہوتی تو پھر بہترین چیز کرفیو تھی مگر پاکستان کی صورتحال مختلف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں