0

عالمی سطح پر نئی ضروریات کے تحت و ہ علاقے نہایت اہمیت کےحامل ہوتے ہیں، جہاں ایس اینڈ ٹی پارکس قائم ہوں

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) کامسیٹس اورچین کے ہائی ٹیک انڈسٹری ڈویلپمنٹ سنٹر کے درمیان صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اورتعاون پر تبادلہ خیال کے بعد اس بات پراتفاق ہوا کہ اس بارے میں طے پانے والے معاہدے میں ون بیلٹ ون روڑ منصوبے(بی آر آئی)اورجنوب میں پائیدار ترقی کے لیے سائنس برائے ٹیکنالوجی برائے کمیشن(کامسیٹس)سے وابستہ ممالک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئےانہیں بھی شامل کیاجانا چاہیے۔اس ضمن میں ایک ورچوئل اجلاس چینی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کےہائی ٹیک انڈسٹری ڈویلپمنٹ کے ٹارچ سنٹرمیں منعقد ہوا،جس میں سائنس کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے مفاہمت کی یاداشت کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زوردیاگیا۔ یہ اجلاس پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کے حوالے سےایس اینڈ ٹی پارک کے قیام اورانتظام کے لیےٹارچ سنٹر کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔اجلاس میں کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی کے ہمراہ چین کے بین الاقوامی تعاون ڈویژن کے ڈائریکٹر مسٹر موٹین کے علاوہ چینی وزارت سائنس وٹیکنالوجی اورکامسیٹس کے اعلی عہدیداران بھی شامل تھے۔بین الاقوامی تعاون ڈویژن کے ڈائریکٹر مسٹر موٹین نےپارک ک قیام کےاقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر نئی ضروریات کے تحت اُن علاقوں کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جہاں پر ایس اینڈ ٹی پارکس کا قیام عمل میں آرہا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نےٹارچ سنٹر کی جانب سے بھرپورمعاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کو ہر معاملے میں ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے اور پاکستان کی طرف سے دی جانے والی ہر تجویز کو ہمیشہ خوش آمدید کہا گیا ہے۔انہوں نے چین کے سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس میں کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی جائزہ پیش کیااور اُن کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت بھی کی۔ اس سلسلے میں مسٹر تان نے چین میں ایس اینڈٹی پارکس کی پالیسی سازی اورانتظامی معاملات پر ٹارچ سنٹر کے کردارپر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے ٹارچ سنٹر کی سالانہ ورکشاپس میں پاکستان سے آنے والے اسٹیک ہولڈرز کو حصص کی پیش کش کے علاوہ منصوبہ بندی،تعمیراور انتظامی امور کی معلومات میں اشتراک اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے ایس اینڈ ٹی پارکس کے انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عہدیداروں کی ٹیموں کو چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے ایس اینڈ ٹی پارکس کے تجربے اور مہارت سے استفاد کرنے کی بھی دعوت دی۔اجلاس میں شامل کامسیٹس کے چائنا ڈیسک کے مشیرجنرل (ر) محمد طاہر نے موجودہ کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے میں چین کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی بروقت امداد کی تعریف کی۔انہوں نے زراعت کے میدان میں چین کے جامع طریقہ کار اور تجربات کو پاکستان اور کامسیٹس کے ممبر ممالک کے لیے سودمند اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی مہارت اور استعدادکار سے غذائی تحفظ کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ جنرل (ر) طاہر نےاجلاس کے شرکاکو بتایا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں بائیوٹیکنالوجی پر ایس اینڈ ٹی پارک کی تعمیر کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے زمین فراہم کی جارہی ہے اور اس ضمن میں تمام طریق کار پر کام مکمل کر لیاگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایس اینڈ ٹی پارک کو اُن خطوط پر استوار کیا جائے گا ،جس طرح چین کا تیاآنجن انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی(ٹی آئی بی)کام کررہا ہے۔چینی ادارے میں موجود بہترین تحقیق اور کاروباری انداز کی تمام مروجہ سہولیات کو پاکستانی ادارے میں بھی رائج کیا جائے گاتاکہ یہ ادارہ کامسیٹس کے ماڈل ادارے کی حیثیت ابھر کر سامنے آ سکے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین دونوں ممالک میں جڑی بوٹیوں سے دواسازی کے شعبے کا دائرہ بہت وسیع ہے اور دونوں ممالک اس شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ نئے قائم ہونے والے ایس اینڈ ٹی پارک سے فارماسیوٹکس،زراعت ، گرین ٹیکسٹائل اور بائیو سائنسز کے شعبوں کو بہت زیادہ مدد ملے گی اور اس کے ساتھ ساتھ کامسیٹس اوربی آر آئی کے ممبر ممالک کو بھی بھرپور فائدہ پہنچے گا۔ورچوئل اجلاس میں کامسیٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے پاکستان میں ایس اینڈ ٹی پارک کے قیام میں مدد اور معاونت پر ٹارچ سنٹر کے بھرپور تعاون اور پیش کش کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ متعلقہ تجاویز اور مشاورت کو ٹارچ سنٹر کے علاوہ متعلقہ پلیٹ فارمز پر پروجیکشن کو بھی شیئر کیا جائے گا۔

رابطہ کے لیےنعیم الدین
0300-5333666

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں