0

چین- افریقہ تعاون و یکجہتی سمٹ، چین کی جانب سے اہم تجاویز کا تبادلہ

سترہ تاریخ کو چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے انسداد وبا سے متعلق  چین- افریقہ تعاون و یکجہتی خصوصی سمٹ کی صدارت کی ۔

وبائی صورتحال کے بعد چینی صدر کی انسداد وبا سے متعلق  بین الاقوامی کانفرنسز میں یہ تیسری شرکت ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی صحت عامہ کو درپیش سنگین ترین بحران کے تناظر میں چینی اور غیرملکی رہنماوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد وبا اور چین-افریقہ دوستانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے سمٹ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین-افریقہ اتحاد کی مضبوطی کے لیے چین کا عزم پختہ ہے۔ وبا پھوٹنے کے بعد چینی صدر شی جن پھنگ نے ایتھوپیا ، مصر ، نمیبیا اور جنوبی افریقہ سمیت چار افریقی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ پانچ مرتبہ ٹیلی فونک  بات چیت کی ہے۔اُن کی گفتگو میں “اتحاد” کا بارہا تذکرہ کیا گیا ہے۔

حالیہ سمٹ میں چین اور افریقہ نے” اتحاد اور تعاون” کی آواز کو  بلند کیا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ اتحاد و تعاون انسداد وبا کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ چین وبا کو سیاسی رنگ دینے ، نسلی امتیاز اور نظریاتی تعصب کی مخالفت کرتا ہے۔ سمٹ کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا  ہے کہ افریقہ تائیوان اور ہانگ کانگ کے امور میں چین کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ہانگ کانگ میں قانون کے مطابق قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اس وقت چین اور افریقہ کو انسداد  وبا اور اقتصادی و سماجی استحکام کو یقینی بنانے میں مشکلات درپیش ہیں۔صدر شی جن پھنگ  نے سمٹ میں کہا کہ وبا کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے دی بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے، چین-افریقہ تعاون فورم کی بیجنگ سمٹ میں حاصل کردہ ثمرات کو عمل میں لانا چاہیے اور صحت عامہ، معاشی و سماجی سرگرمیوں کی بحالی اور عوامی زندگی کی بہتری سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔

جناب شی نے کہا کہ چین انسداد وبا میں افریقہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے افریقی ممالک کو  سازوسامان سمیت مزید امداد فراہم کرے گا اور مزید طبی ماہرین بھی بھیجے جائیں گے۔  افریقہ کو  چین سے  انسداد وبا کے سازوسامان کی خریداری میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔ چین افریقہ میں  انسداد امراض کا مرکز قائم کرے گااور افریقہ کے ساتھ  مل کر صحت عامہ سے متعلق اقدامات پر عملدرآمد کرے گا۔

شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین جی ٹونٹی ممالک کے ساتھ مل کر افریقی ممالک سمیت دیگر ممالک کے ذمے واجب الادا قرضوں کی معطلی کی اپیل کرے گا  ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ چین ویکسین کی تیاری کے بعد افریقی ممالک میں ویکسین کی فراہمی کو ترجیح دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں