51

ورک فرام ہوم، کیا آپکی کمر میں بھی درد رہنے لگا ہے؟

اسلام آباد(نیو زڈیسک)عالمی وبا کوروناوائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے نتیجے میں ’ورک فرام ہوم ‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے گھروں سے کام کیا جا رہا ہے جو کہ ذہنی صحت سمیت جسمانی صحت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔کئی سالوں سے متحرک زندگی گزارنے والے افراد اس لاک ڈاؤن کے دوران سست اور طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن میں ذہنی دباؤ اور کمر کا درد سر فہرست ہے ۔ماہرین کے مطابق گھروں میں بیٹھ کر آفس کا آن لائن کام کرنے والے ملازمین میں کمر کے درد کی شکایت رہنے لگی ہے، اس حوالے سے ہمیں احتیاطی تدابیر کرنا ہوں گی۔کمر میں درد اُٹھنے کی کئی وجو ہات ہو سکتی ہیں ، ’ ورک فرام ہوم ‘ کے دوران جو کمر درد کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے وہ بیٹھنے کا غلط طریقہ، گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنا، لیٹ کر یا صوفے پر ٹیک لگا کر کام کرنا ہو سکتا ہے۔غیر متوازن روٹین لاک ڈاؤن کے سبب گھروں سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے، روٹین غیر متوازن ہو گئی، ایسے میں ہر کوئی زیادہ وقت بیٹھ کر یا لیٹ کر گزار رہا ہے، چہل قدمی اور ورزش نہ ہونے کے نتیجے میں اعصاب اور جسمانی پٹھے تناؤ کا شکار ہیں۔اس وقت زیادہ تر ملازمین گھر میں صوفے پر لیٹ کر یا بیٹھ کر یا کسی سخت نشست پر بیٹھ کر کام کر رہے ہیں، کام کے دوران لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے مثبت فاصلہ رکھے بغیر اس پر گردن جھکا کر یا لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر کام کرتے ہیں، ورکنگ آورز کے دوران ایک ہی طرح کی غلط پوزیشن میں کئی گھنٹوں بیٹھنے سے بھی کمر درد کی شکایت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حد سے زیادہ آرام دہ انداز میں کام کرناماہرین کا کہنا ہے کہ اس درد سے بچنے کا واحد حل خود کو متحرک رکھنا، ورزش ، یوگا کرنا ہے ، اگر آپ کو بھی کمر درد کی شکایت ہے تو آج ہی اپنے بیٹھنے کا طریقہ بدلیں ۔کمر درد سے بچنے کے لیے گھر میں دفتر جیسا ماحول بنانے کی کوشش کریں، لیٹنے کے بجائے ایک آرام دہ سیٹ پر بیٹھ کر اور لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھ کر کام کریں، ہر 30 سے 40 منٹ کے بعد اٹھیں اور تھوڑی چہل قدمی لازمی کریں۔کمر درد کی شکایت میں اپنے پٹھوں کو کھینچنا یعنی انگڑائی ( اسٹریچ ) کرنا نہ بھولیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں