40

ماہ رمضان المبارک میں روزہ دار کی اہمیت وفضیلت

يايھاالذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون.(البقرہ:183)ترجمہ :- اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے۔جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ (القرآن)صیام جمع ہے ۔اس کا مفرد ہے صوم۔لغت میں صوم کا معنی ہے۔(الامساك عما تنازع اليه النفس.)یعنی اس چیز سے باز رہنا جس کی طرف نفس کشش محسوس کرتا ہو۔(شریعت میں صوم کہتے ہیں کہ انسان عبادت کی نیت سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل زوجیت سے رکا رہے۔۔قارئین کرام:- روزے کا مقصد اعلی اور اس سخت ریاضت کا پھل یہ ہے کہ تم متقی اور پاکباز بن جاؤ۔حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں روزہ دار کی جو شان بیان کی گئی ہے اس پر تو انسان رشک کھاتا ہے۔(حدیث:-عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه قال:قال رسول الله صلى اللہ عليه وآلہ وسلم من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه (متفق عليه)ترجمہ:- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(حدیث:- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (اور ایک روایت میں ہے کہ)جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیطان) زنجیروں میں)جکڑ دیئے جاتے ہیں۔(حدیث:- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے اور دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لیے محفوظ قلعہ ہے۔ان احادیث کی روشنی میں اب انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنےکے لیے دن رات رب کے حضور جکتا رہے۔اور ماہ رمضان المبارک میں جس قدر ہو سکے اپنی بخشش کے اسباب پیدا کرتا رہے۔یہ ماہ صیام اللہ تعالی کی طرف سے سراسر نیکیاں کمانے کا ہے۔اللہ کریم ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(حدیث:- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کا ہر عمل اس کے لیے ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک ہے۔سوائے روزہ کے، کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا عطا کرتا ہوں۔یقینا وہ(روزہ دار )کھانا اور شہوت نفسانی کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔اور اپنا پینا اور شہوت میری وجہ سے ترک کرتا ہے، پس وہ (روزہ)میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا عطا کرتا ہوں ۔(حدیث:- سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ایک چیز کی زکوة ہے اور جسم کی زکوة روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے۔۔اب اگر یوں کہا جائے کہ آسمان ثریا کی عظیم بلندیوں پر لے جانے والی احادیث سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت انسان(یعنی روزہ دار) کے حق میں ارشاد فرمائی ہیں۔اب روزہ دار کو چاہیے کہ روزے کو کس طرح اللہ تعالی کے حکم کے مطابق گزارنا ہے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔يايھاالذين امنواادخلوافى السلم كافة. ولا تتبعوا خطوات الشيطن -انه لكم عدومبين.(القرآن)ترجمہ:- اے ایمان والو داخل ہو جاؤاسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے( سلم )کا معنی سر تسلیم خم کرنا غیر مشروط اطاعت اختیار کر لینا۔(حدیث:-حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن قیامت کے روز مومن کے لیے شفاعت کریں گے ۔روزہ عرض کرے گا: اے اللہ دن کے وقت میں نے اسے کھانے اور شہوت سے روکے رکھا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن کہے گا میں نے رات کو اسے جگائے رکھا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما، پس دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔۔(بری باتوں سے بچنا)اب اگر ایک انسان روزے کی حالت میں ہے لیکن وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس بدنصیب کے لیے حدیث کے اندر کیا وعید آئی ہے۔(حدیث:-حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص (بحالت روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر) برے)عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالی کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔ایک طرف جھوٹ بولنے والے کے لیے حدیث میں اس قدر ارشاد فرمایا گیا۔لیکن دوسرا مقام وہ بھی تو ہے کہ جب بندہ بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کا روزہ رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے۔رمضان المبارک میں رب کی رضا حاصل کرنے پر اس قدر بلند مقام حاصل ہوتا ہے۔کہ انسان کے بہترین اور خوبصورت عمل کرنے پر رب تعالی اپنے فرشتوں کے سامنے انسان پر فخر کرتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ کس قدر میری رضا اور خوشنودی کی خاطر مجھ سے اپنے گناہوں پر معافی مانگ رہا ہے۔یہ بلندی کا سب سے اعلی مقام ہے کہ بندے کو رب کی بارگاہ سے معافی مانگنے پر اس کے گناہوں کو معاف کیا جا رہا ہے اس سے بلند مقام اور کیا ہو سکتا ہے۔کتب کے اندر آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا اے میرے رب تو نے مجھے ہمکلام ہونے کا شرف بخشا ہے۔کیا کسی اور کو بھی ایسا عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسی میرے ایسے بندے بھی ہیں۔آخری زمانے میں وہ آئیں گے۔رمضان سے ان کا اکرام کروں گا تو پھر تم سے بھی زیادہ ان کو میرا قرب حاصل ہو گا کیونکہ مجھ سے تمہاری گفتگو ہوئی اور میرے اور تمہارے درمیان ستر ہزار حجاب تھے اور امت محمدی جب روزہ رکھے گی یہاں تک کہ ان کی ہونٹ سفید ہو کر رہ جائیں گے اور رنگ زرد پڑ جائے گا تو اے موسی میں اپنے اور ان کے درمیان کے پردے افطار کے وقت اٹھا دوں گا بشارت ہو اس کو کہ جس کا رمضان میں جگر پیاسا رہے اور اس کے پیٹ میں بھوک لگی ہو بلکہ ایک مقام پر حضرت کعب بن احبار رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس اللہ تعالی نے وحی بھیجی کہ اے موسی میں نےاپنے ذمہ لکھ لیا ہے کہ رمضان المبارک میں روزہ دار کی دعا رد نہیں کروں گا میں آسمانوں اور زمین پر پرندوں اور چوپایوں کے دل میں ڈالوں گا کہ رمضان کے روزہ داروں کے لیے استغفار کیا کریں۔قارئین کرام اس ماہ مبارک میں جس قدر ہو سکے قرآن کریم کی تلاوت اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پاک کی کثرت کی جائے۔(قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کے بارے میں۔سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے قرآن پڑھا اور اسے یہ گمان ہے کہ خدا اسے نہیں بخشے گا وہ قرآن کا منکر ہے اور یہ بھی فرمایا جس نے قرآن پڑھا اس نے ایسے مضبوط قلعے میں پناہ لی کہ جس کی راہ کسی کو نہیں مل سکتی۔قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے عوض میں دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔قرآن کریم ایک گہرا دریا ہے کسی نے اس کی تہ دریافت نہیں کی اور کوئی اس کی انتہا تک نہیں پہنچا جس شخص نے قرآن کی ایک سورہ ظاہری اور باطنی توجہ سے پڑھی خدا نے اس کے لیے جنت میں ایک ایسا درخت لگایا ہے کہ اگر کوئی شخص اس درخت کے کسی پتے کے سائے میں نکل جانا چاہے تو وہ شخص اس پتے کے سایہ کے قطع کرنے سے پہلے بڑھا ہو جائے گا۔قرآن مجید پڑھنے والے کے عوض ہر آیت کا ایک درجہ ہے۔ہر ایک دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ثری اور ثریا میں۔جس نے قرآن مجید پڑھا اس کے اور دوزخ کے درمیان اللہ تعالی سات خندقیں بنا دیتا ہے۔ہر ایک خندق کا عرض ہزار برس کی راہ ہے۔قرآن والے خدا والے ہیں۔جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے خدا سے محبت کی اس کے لیے جنت ہے۔جس نےان سے دشمنی کی(یعنی قرآن والے)اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اور جس نے خدا سے دشمنی کی اس کے لیے دوزخ ہے۔(درود پاک شکر الہی بجا لانے کا سبب ہے)درود وسلام اپنے ضمن میں بالواسطہ اللہ تعالی کا شکر بجا لانے کا مفہوم رکھتا ہے ۔کیونکہ حدیث پاک میں ہے۔(لا يشكر الله من لا يشكر الناس )جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ تعالی کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا جب ایک آدمی درود پاک پڑھتا ہے تو جہاں وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان گنت احسانات کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے۔وہاں وہ اللہ تعالی کی شکر گزاری کا فریضہ بھی سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔(حدیث :-حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے سب سے ذیادہ نزدیک وہ ہو گا جس نے مجھ پر سب سے ذیادہ درود پاک پڑھا ہو گا۔(حدیث: -حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوے سنا کہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود وسلام پڑھتا ہے اللہ تعالی اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔اس کے دس گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرماتا ہے۔
اللہ پاک ہم سب کی عبادات کو اپنی بارگاہ صمدیت میں درجہ قبولیت پر فائز فرمائے۔اور اس رمضان المبارک کے وسیلہ سے جتنے بھی لوگ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ان سب کو صحت و سلامتی والی زندگی عطا فرمائے جو لوگ اس کی وجہ دار دنیا کو چھوڑ کر دار بقا کی طرف چلے بسے ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور بالخصوص ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی اللہ مدد فرمائے۔اللہ پاک ان کو آزادی عطافرمائے۔
تحریر : حافظ ساجد محمود سلطانی امام و خطیب جامع مسجد الاکبریہ لیوٹن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں