بھارت نے پاکستان کا پانی روک دیا

سیالکوٹ (نیوز ڈیسک)بھارت نے 1960ء کے سند ھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے دریائے چناب کاپانی مقبوضہ کشمیر میں بگلیہارڈیم پرروک لیاجس کی وجہ سے دریائے چناب کے پانی کی آمد 25ہزار ایک سو پینسٹھ کیوسک رہ گئی اور پانی کمی کی وجہ سے نہر مرالہ راوی مکمل طور پر بند کردی گئی ،سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں بھارت سے ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت دریائے چناب میں ہر لمحہ55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کاپابند ہے لیکن بھارت نے کئی سالوں سے دریائے چناب کا پانی روک رکھا ہے اور پانی کمی کی وجہ سے ہیڈمرالہ کے مقام سے دریائے چناب سے نکلنے والی نہر مرالہ راوی لنک کا مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جس سے سیالکوٹ اور ضلع نارووال کی فصلوں کو نقصان پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہوا ۔

ترجمان ایری گیشن کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے آکر دریائے چناب میں شامل ہونے والے دودیگر دریاؤں دریائے مناور توی کے پانی ایک ہزار دو سو پانچ کیوسک اور دریائے جموں توی کے دو ہزار چوہتر کیوسک پانی کے شامل ہونے سے دریائے چناب کے مجموعی پانی کی آمد اٹھائیس ہزار چارسو باسٹھ کیوسک رہی اور دریائے چناب کے اپنے پانی کی آمد 25ہزار ایک سو پینسٹھ کیوسک رہ گئی ۔دریائے چناب سے نکلنے والی نہر سے پانی بند کردیا گیااوردوسری نہر اپرچناب میں پانی کا بہاؤ تیرہ ہزار نوسو پچاس کیوسک رہا ،پانی کمی کی وجہ سے ضلع سیالکوٹ ، نارووال ، گوجرانوالہ ودیگر اضلاع کی لاکھوں ایکٹر زرعی اراضی کو نقصان پہنچا جہاں کاشتکار اور کسان فصلوں کو ٹیوب ویلوں کا پانی لگانے پر مجبور رہے،پانی کمی کی وجہ سے دریائے چناب کا ستاسی فیصد حصہ خشک ہوچکا ہے اور پانی کمی کی وجہ سے پاکستان کا بڑا نقصان بھی ہوا لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے دریائے چناب کا پانی روک کر دہشت گردی کی ہے ، جس کے خلاف کاروائی کیلئے حکومت کو فوری عالمی سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں