0

تیری تصویر پردے سے ہٹائے جا رہا ہوں

تیری تصویر پردے سے ہٹائے جا رہا ہوں
تجھے آہستہ آہستہ بھلائے جا رہا ہوں

وہ سب یادیں تمہیں واپس کرے ہوں
وزن دل سے ہٹائے جا رہا ہوں

تو پنچھئ تھا تو اڑ کے جا چکا ہے
میں دل کو اب منائے جا رہا ہوں

تجھے دیکھا ہے غیروں کے نگر میں
یہ سچ خود کو بتائے جا رہا ہوں

تیرے زخموں کو مرہم کرتے کرتے
زخم دل پر لگائے جا رہا ہوں

تیرا اعجاز جس میں اب نہیں ہے
وہی دنیا بسائے جا رہا ہوں

پروفیسر طیب اعجاز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں