0

کورونا سے متاثرہ جگہ و اشیا کی بحالی کیلئے جراثیم کش روبوٹ کی تیاری

اسلام آباد(نیو زڈیسک) طلبہ نے COVID 19 کے متاثرہ مریضوں کے وارڈز میں موجود بستر سمیت دیگر جراثیم زدہ “انفیکٹڈ” اشیا کو sterilize ( جراثیم سے پاک) کرنے اور انھیں نئے مریضوں کے لیے قابل استعمال بنانے کی غرض سے ” الٹرا وائیلیٹ روبوٹ” تیار کرلیا ہے۔این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی بی اے کراچی کے سابق طلبہ نے COVID 19 کے متاثرہ مریضوں کے وارڈز میں موجود بستر سمیت دیگر جراثیم زدہ “انفیکٹڈ” اشیا کو sterilize ( جراثیم سے پاک) کرنے اور انھیں نئے مریضوں کے لیے قابل استعمال بنانے کی غرض سے ” الٹرا وائیلیٹ روبوٹ” تیار کرلیا ہے اس روبوٹ کو UV CORONA Fighter Robot کا نام دیا گیا یے جو اپنی ساخت کے اندر موجود الٹرا وائیلیٹ شعاؤں کی مدد سے کورونا وائرس یا اس کے مریض کے سبب ماحول میں آنے والے جراثیم کو مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس روبوٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک موبائل اپلیکیشن تیار کی گئی ہے جس کی مدد سے اسے آپریٹ کیا جائے گا.اس حوالے سے روبوٹ تیار کرنے والے انجینیئر محمد نبیل نے اسپتالوں کے دورے اور ڈاکٹر حضرات سے ملاقات میں اس بات کی کمی کو شدت سے محسوس کیا تھا کہ کورونا کے جو مریض صحت یاب ہوکر اسپتالوں سے فارغ ہورہے ہیں یا جنھیں گھروں پر ہی کورنٹائن کیا گیا ہے ان کی بیماری کے دوران زیر استعمال جراثیم زدہ اشیا اور کمرے یا وارڈ کو اسٹرلائز کرنے کا کوئی سائنسی مکینزم موجود نہیں ہے جبکہ نئے مریض کو دوبارہ اسی جگہ پر ایڈمٹ کرنے سے قبل اس جگہ اور متاثرہ اشیاکو disinfect کرنے کیے لیے بھی متعلقہ عملہ یا تو تیار نہیں ہے یا اس میں خود جراثیم سے متاثر ہونے کا خوف موجود ہے لہذا اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں ایک ایسے روبوٹ کیا تیاری کا خیال آیا جس کے ذریعے متعلقہ اشیا اور جگہ کو انسانوں کی موجودگی کے بغیر ہی اسٹرلائز کیا جاسکے.انھوں نے بتایا کہ کسی بھی سطح پر اگر یہ شعائیں چار منٹ تک مسلسل پڑتی ہیں تو وہاں موجود جراثیم مر جاتے ہیں محمد نبیل نے بتایا ہم نے روبوٹ پر کیمرہ نصب کیا ہے جس کی مانیٹرنگ اپلیکیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے اور وارڈ کے باہر موجود روبوٹ آپریٹر اسے اپلیکیشن کی مدد سے کنٹرول کر سکتا ہے.کورونا فائیٹر روبوٹ کی تیاری میں تقریباً 6 لاکھ روپے کے اخراجات آئے ہیں اور اس کی تیاری میں کنڑولر(برین)،موٹرز، انڈرائڈ، آلٹروائیلیٹ ٹیوبس اور فائبر کا استعمال کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ ایک روبوٹ کی تیاری میں ایک ہفتے کا وقت درکار ہے اور ہم نے مختلف سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں