62

“مولانا پر غصہ کیوں”

قدرت راستوں کا تعین کرتی ہے انسانوں کے بس کی بات کہا ۔مولانا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔جب والد نے سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں داخل کروایا تو اسوقت مولانا ایک زمیندار کا بچہ تھا میاں چنوں کے پاس انکا آباہی گائوں طلمبہ زمینداروں کی وجہ سے نہیں اہل طرب کی وجہ سے مشہور ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں وہاں کے بڑے زمیندار سہو ہیں طارق جمیل زمینداروں اور چوہانوں راجپوتوں کے قبیلے سہو سے تعلق رکھتے ہیں انکے والد محترم ایک زمیندار اور اپنے دور کے بڑے سیاسی تھے انکا خاندان شیر شاہ سوری کے دور میں طلمبہ کا حکمران تھے طلمبہ کے آس پاس زمینیں اسی خاندان نے تقسیم کیں میٹرک کے بعد طارق جمیل صاحب نے گورنمنٹ کالج پہنچ کر راوین بننے کا اعزاز حاصل کیا 1969 میں گورنمنٹ کالج کے اقبال ہاسٹل میں عزیز اللہ‎ نیازی اور طارق جمیل کلاس میٹ تھے دونوں ہاکی کے کھلاڑی تھے طارق جمیل شاندار گلوکار بھی تھے ایک دن عزیز اللہ‎ نیازی طارق جمیل کو رائیونڈ لے گیا اقبال ہاسٹل سے ایک اور طالب علم ارشد اولکھ بھی انکے ساتھ رائیونڈ گیا عزیز اللہ‎تو واپس آگیا مگر طارق جمیل کا وہاں دل لگ گیا ایف ایس سی کے بعد کنگ ایڈورڈ کالج میں داخلہ لیا مگر وہ میڈیکل کے بجائے دین کی طرف راغب ہو گیا وہ ڈاکٹر تو نہ بن سکے مگر مولانا ضرور بن گئے ۔ بظاہر ڈاکٹر نہ بن سکنے والے نے بے شمار انسانوں کا علاج کیا لاکھوں انسانوں کی روحوں کو سکون بخشنے والے طریقے بتائے ۔اللہ‎پاک نے انھیں شہرت سے بہت نوازا ۔اس مسیحاہی کی انھیں کہی مرتبہ قیمت ادا کرنا پڑی ۔والد نے یہ کہ کر گھر سے نکال دیا کہ میں نے تمھیں ڈاکٹر بننے کیلئے بھیجا تو مولوی بن کر آگیا کیا ہم زمینداروں کے بچے مولوی بنیں گے ؟؟انسان جب اللہ‎کی راہ میں نکلتا ہے تو آزمائش بھی بہت آتی ہیں ایک قیمت کو چند پہلے بھی ادا کرنا پڑی انکی باتوں پر میڈیا کے چند لوگ غصہ میں آ گئے وہ غصے میں کیو آ گئے اس پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے معاشرے کی تصویر کا ایک رُخ دیکھ لیجیے ۔ تبلیغی مرکز سے جُڑے ہونے کی وجہ سے ہم انھیں ایک مخصوص فرقے کا نماہندہ سمجھتے تھے مگر یہ پُرانی بات ہے جیسے جیسے میڈیا سوشل میڈیا نے ترقی کی تو پتہ چلا کہ طارق جمیل کو فرقہ پرستی کے خلاف ہے بلکہ وہ تو اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ نفرتیں نہ پھیلاوُ پھر طارق جمیل صاحب نے گلدستہ اہل بیت لکھ کر تمام شکوک شبہات دور کر دیئے خواتین و حضرات اینکرز نے کیوں بُرا منایا ؟؟ ان سے متعلق عمران خان صاحب نے بہت کچھ کہا مگر وہ چُپ رہے آصف زرداری انھیں سیاسی اداکار کہتے تھے رانا ثناہ اللہ‎ نے ایسی زبان استعمال کی تھی وہ تو لکھنا بھی مناسب نہیں اس کے علاوہ اور بہت لوگوں نے بہت کچھ کہا مگر یہ خاموش رہے مگر خوشیاں منانے والے یہ بھول گئےکہ فلسفہ آزادی اظہار کیا ہوتا ہے ؟ مولانا طارق جمیل صاحب کو اللہ‎ پاک نے خطابت کے جوہر سے نواز رکھا ہے فرقہ واریت سے کہی دور محبت گھولتی ہوہی گفتگو مولانا کا خاصہ ہے لوگ انکی گفتگو بڑی توجہ سے سنتے ہیں انکی گفتگو گنہگار سے گنہگار انسان کے دل پر اثر کرتی ہے یہ سب اللہ‎ کی طرف سے ہوتا ہے انھوں نے پیارے رسول ؐ کی حدیث کی روشنی میں معاشرے کی جو عکاسی کی ہے وہ بالکل درست ہے زرا سوچیے ، کیا ہمارے معاشرے میں جھوٹ دھوکا بے حیاہی نہیں ہے ؟ کیا یہاں رشوت کا بازار گرم نہیں۔ ؟ کیا ملاوٹ بددیانتی نہیں ؟ کیا یہاں گراں فروشی نہیں؟ کیا ہمارے ملک میں لوگوں کی زمینوں پر قبضے نہیں ہوتے ؟ کیا یہاں ملک میں زکوٰۃ کا نظام درست ہے ؟ کیا یہاں پولیس ظالم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی ؟ کیا یہاں مافیا بددیانتی کا نظام نہیں ؟ کیا یہاں ہر طبقہ بے ایمانی نہیں کرتا ؟ کیا یہاں نہری پانی چوری نہیں ہوتا ؟ کیا ہمارے تاجر نے سود اور ناپ تول میں کمی چھوڑ دی ؟ کیا ہمارے معاشرے میں لاشوں سے بے حرمتی نہیں ہورہی ؟ کیا تم قصور کی زینب بھول گئے ؟ کیا آپ ساہیوال والا واقعہ بھول گئے ؟ میڈیا میں زیادہ تر پروگرام جھوٹے اور پیسے لیکر لوگوں کی پگڑیاں نہیں اُچھالی جاتی بہت سے اینکرز منافقت کرتے ہیں کچھ ایسے ہیں جو تکبر کرتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنکی زندگی کا مقصد صرف دولت کا حصول ہے ۔۔مولانا نے بحیثیت مجموعی بات کی انھوں نے تو نظام عدل پر تنقید کی ۔۔ جھوٹ جہاں غالب ہو وہاں اتنا سچ بھی کڑوا لگتا ہے جہاں جھوٹ کا بسیرا ہو وہاں سچ بولنا خطا سے کم نہیں مولانا کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ بُرائیاں چھوڑ کر اللہ‎کو راضی کر لو کیا کوہی گُناہ کر لیا بحیثیت مسلمان ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم یہ پیغام پوری اُمت تک پہنچاہیں ۔آخر میں ایک شعر ڈاکٹر خورشید رضوی کا
ہر جبر سے خاموش گُزر آہے کہ افسوس
جاں بھی ہمیں درکار تھی عزت کے علاوہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں