0

برطانیہ میں کورونا مریضوں کا پتہ لگانے والے ایپ کی تیاری

اسلام آباد(نیو زڈیسک)امریکا اور برطانیہ میں جہاں کورونا وائرس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا رکھی ہے وہاں اب مختلف فرمز نجی کمپنیوں کے لیے ایسا ایپ تیار کررہے ہیں جس سے ملازمین میں اگر کسی کو کورونا وائرس کی وبا لگ چکی ہوگی تو اسکا پتہ چلایا جاسکے گا۔اس ایپ کے استعمال سے سینٹی میٹر کی دوری پر موجود وبا کے شکار ورکر کے بارے میں آگاہی حاصل ہوسکے گی، اور مرض میں مبتلا شخص کی نشاندہی کے بعد اسے آئسولیٹ ہونے کے لیے کہا جاسکے گا۔ برطانیہ میں کورونا مریضوں کا پتہ لگانے والے ایپ کی تیاریتاہم وکلا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کچھ پرائیویسی کو قربان کیے بغیر اسکا استعمال مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ کنٹیکٹ ٹریسنگ نامی اس ایپ کی تیاری ابھی جاری ہے اور کاروباری ادارے کاروبار کھولنے سے پہلے وائرس کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اس سلسلے میں تین کمپنیاں نجی اداروں کے لیے نگرانی کرنے والے ایپس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ وائرس سے متاثرہ ورکر کی چھوئی ہوئی ہر چیز کو ڈس انفیکٹ کرسکتاہے، جیسا کہ فوٹو کاپیئر، واٹر کولر یا لفٹ کے بٹن سمیت کسی شے کو متاثرہ شخص نے ہاتھ لگایا ہو تو یہ اس کے سرفیس (سطح) کو وائرس سے پاک کرنے کے لیے بالکل صاف کردے گا۔معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروسز بھی منصوبہ بندی کررہی ہے کہ وہ اپنا فون ٹریکر ایپ تبدیل کردے، این ایچ ایس کا یہ ایپ ان ورکرز کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جوکہ کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہوں یا انکا ٹیسٹ مثبت آیا ہو۔تاہم ماہرین قانون کہتے ہیں کہ اس ڈیٹا کو اس وقت تک استعمال نہیں کیاجاسکتا جب تک کہ اسے مناسب انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات نہ ہوجائیں اور پرائیوسی کی قربانی دینے کو لوگ تیار ہوجائیں، انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ڈیٹا کی سیکیورٹی ہو، کم سے کم ڈیٹا ہو اور اکاؤنٹیبیلیٹی بھی ہو، بصورت دیگر مسائل پیدا ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں