بھارت پہلی بار اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی 2020 ءکی رپورٹ جاری کردی گئی جس میں بھارت کو پہلی بار اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2019 ءمیں مذہبی آزادی کے حوالے سے بدترین ملک رہا،یو ایس سی آئی آر ایف نے سال 2020 ءکی رپورٹ میں مودی سرکار کی طرف سے شہریت کے ترمیمی قانون کو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کو 2004 ءکے بعد پہلی بار مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویشناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ مودی سرکار کے شہریت ترمیمی ایکٹ نے مسلمانوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارت کے چار سالہ نیشنل رجسٹریشن پروگرام کی تکمیل کے بعد لاکھوں بھارتی مسلمانوں کو قیدوبند، جلاوطنی اور ریاست کی شناخت کھونے جیسے خطرات کا سامنا ہو گا۔رپورٹ میں امریکی انتظامیہ سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے والے ملکوں سے کڑا حساب لینے کی سفارش کی گئی ہے،امریکی کمیشن نے بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر نے پر بھی شدید تنقید کی ہے۔رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے،امریکی رپورٹ نے لکھا کہ پاکستان کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مذہبی آزادی کو درپیش مسائل کے حل پر بات کرنا چاہتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں