جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
کانپ جاتا ہوں، اور لزرتا ہوں

پاؤں اٹھتے نہیں کسی جانب
تیرے کوچے میں جا ٹھہرتا ہوں

یاد ماضی کی کرچیاں بن کر
تیری گلیوں میں جا بکھرتا ہوں

تیرے قدموں کی چاپ سن کر
خود کو خود ہی سمیٹ لیتا ہوں

تیرے اعجاز کی کرامت ہے
ریزہ ریزہ ہوں، چلتا پھرتا ہوں

طیب اعجاز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں