نیویارک میں ماہرین کا تجربہ، بدہضمی کی دوا کورونا کے خلاف استعمال

اسلام آباد(نیو زڈیسک)نیویارک کے اسپتالوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو معالجین نے سینے میں جلن (بدہضمی) کی دوا دینا شروع کی ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ یہ دوا وائرس کے خلاف کارگر ہے یا نہیں؟اس حوالے سے ٹرائل شروع کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر مریضوں کو معدے میں تیزابیت کم کرنے والی ایک دوا فیموٹیڈائن تحرباتی طور پر دیا گیا ہے اور اسکے نتائج چند ہفتوں میں آجائینگے۔نیویارک سٹی ایریا میں کام کرنے والے 23 اسپتالوں کو چلانے والے ادارے فینسٹین انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ نارتھ ویل ہیلتھ کے صدر ڈاکٹر کیون ٹریسی نے بتایا کہ اب تک اس کلینیکل ٹرائل میں 187 مریضوں نے اپنا اندراج کروایا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کو امید ہے کہ مزید 1200 مریض اپنا اندراج کروائیں گے۔ڈاکٹر کیون ٹریسی نے مزید کہا کہ طبی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جب کوئی دوا کسی خاص مرض کے لیے تیار کی گئی ہو اور وہ کسی اور مرض کے علاج میں موثر ثابت ہوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیموٹیڈائن نے کورونا کے خلاف اپنا اثر دکھایا تو پھر یہ اس مرحلے پر ایک بڑی کامیابی ہوگی اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنا آسان بھی ہوگا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ دوا جینرک ہے اور کافی مقدار میں موجود ہونے کے ساتھ بہت ارزاں بھی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کام نہ کرے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں، لیکن ہماری ٹیم کو امید ہے کہ کچھ کام بن جائے، اور اسی لیے ہمیں اس کلینیکل ٹرائل کی ضرورت ہے۔برطانیہ کی سڑکوں پر رش، لوگ گھروں سے نکلنا شروعانہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے میں شامل مریض اسپتال میں اپنی نس کے ذریعے دوا کے بھاری ڈوز (خوراک ) لے رہے ہیں۔ جو کہ نو مرتبہ لیے جارہے ہیں، اور یہ اتنی مقدار ہے جو کہ عام طور پر بدہضمی یا سینے میں جلن کے مریض لیتے ہیں۔تاہم انہوں نے عام لوگوں کو اس اقدام سے منع کرتے ہوئے کہا کہ آپکو ڈرگ اسٹور میں جاکر اس دوا کے بنچ کو نہیں لینا چاہئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں