0

ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں

نا جائز منافع خوری ، ناپ تول میں کمی ، اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ و مہنگائی پا کستانی قوم کا وطیرہ بن چکا ہے ۔اشیائے خورد و نوش میں سب سے سستا نمک ہے مگر صد افسوس کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پیک شدہ نمک کی فروخت بڑھانے کے لئے عام خوردنی نمک میں بھی پتھر کی ملاوٹ کی جارہی ہے ۔ چنے کے چھلکوں سے چائے کی پتی اور پھر اس میں جانوروں کا خون اور مضر صحت رنگ ۔ بیکریوں میں گندے انڈوں کا استعمال ، آٹے میں میدے کی آمیزش ، سرخ مرچوں میں چوکر،اینٹوں ولکڑی کا بورا،کالی مرچوں میں پپیتے کے بیج کی ملاوٹ ، معروف برانڈ کی کمپنیوں کے ڈبوں میں غیر معیاری اشیاء کی پیکنگ جیسی دھوکہ دہی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
ملاوٹ مافیا کہیں خطرناک کیمیکل، سوڈیم کلورائیڈ، فارمالین، ڈٹرجنٹ اور پانی کی آمیزش سے دودھ تیار کرکے فروحت کررہے ہیں تو کہیں دودھ کی مقدار کو بڑھانے کے لئے اس میں پروٹین، چکنائی، کوکنگ آئل، یوریا اور دیگر مضر صحت کیمیکلز کو شامل کیاجارہا ہے ۔ اسی طرح ٹافیوں، پرفیوم، شیمپو، میک اپ کے سامان میں مختلف بیماریوں کا باعث بننے والی اشیاء کی ملاوٹ کی جارہی ہے۔اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
کہیں گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے ذبیحہ کی شہ رگ میں پانی کا پریشر استعمال کیا جارہا ہے تو کہیں گدھے، گھوڑے، کتے اور مردار کا گوشت مدغم کر کے فروخت کیا جا تاہے۔ ایسا گوشت عام طور باربی کیو اور ہوٹلوں پر پر مرغن او مصالحہ دار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مرغیوں کی چربی سے بنے ناقص گھی اور تیل میں بیسن کی بوندیاں اور بچوں کے کھانے کی چیزیں تلی جارہی ہیں ۔ جبکہ ہماری نہروں میں شہر بھر کے گٹروں کا پانی ڈالا جارہا ہے جو کہ بعد ازاں نہروں سے کھیتوں میں جاتا ہے ، اورپھر اسی گندے اور زہریلے پانی میں سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں۔ اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
اشیائے خورد و نوش کی اس گھمبیر صورتحال کے نتیجے میں بچوں کی نشوونماء متاثر ہورہی ہے، اور شہریوں بالخصوص بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور ہر چوتھا پاکستانی منہ،جگرکے کینسر، ہیپا ٹائٹس، گردوں کے امراض ،شوگر، بلڈپریشر،جلدی امراض اور معدے کے عارضوں میں مبتلاہے۔ ملک بھر میں سرکاری و نجی اسپتالوں پر مریضوں کا رش دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں کوئی خطرناک وبا پھوٹ پڑی ہے ، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی مریض نہ ہو۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ مضر صحت اشیاء کے ہاتھوں بیمار ہونے کے بعد خالص دوائیں تک دستیاب نہیں ہوتیں، کیونکہ ادویات میں بھی ملاوٹ کی بھرمار ہے۔اور پھر کرونا کی وباء کے دوران ڈیٹول ، سینا ٹائزر ، اور ماسک وغیرہ کا مارکیٹ سے غائب ہونا اور پھر دوگنے داموں پر فروخت ہونا۔اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے لیکن وطن عزیز میں ذخیرہ اندوز مسلمان اسے سیزن قرار دے کر غریب مسلمانوں کے لئے اس کو عذاب بنانے کے لئے کمر کس لیتے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اپنے شہریوں کے مذہبی تہواروں پر اشیائے خورد و نوش سمیت اشیائے ضرورت کی قیمت کم کردیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس مقدس مہینے میں ناقابل برداشت حد تک قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جو انتہائی ظلم ہے۔ تربوز 80 روپےکلو لال کی کوئی گارنٹی نہیں البتہ سفید ضرور نکلے گا سیب 200 روپے کیونکہ اسٹور والا ہے لیمن 400 سے پانچ سو کلو کیونکہ راستے بند ہیں ۔ اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
اب ذرا رحمتوں اور برکتوں والے ماہ مقدسہ میں کراچی کا احوال ،شہر کے مختلف بازاروں میں 50 روپے فی کلو ملنے والا خربوزہ 100 سے 120 ، 40 روپے فی درجن ملنے والے درجہ دوم اور سوم کے کیلے 80 سے 120 ، گرمہ 100 سے 120 جبکہ تربوز 50 سے 60 روپے فی کلو میں فروخت ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ لیموں فی کلو چار سے ساڑھے چار سو ، 80 روپے فی کلو ملنے والی ہری مرچ بھی مختلف بازاروں میں 150 سے 180 فی کلو میں فروخت ہو رہی ہیں ، جس کے سبب ریلیف کے متلاشی شہری بازاروں میں مہنگائی کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔
مہنگائی سے نالاں دکاندار کہتے ہیں کہ منڈی سے مہنگے ملنے والے پھل کم قیمتوں میں فروخت نہیں کرسکتے، ماہ مقدسہ میں ایک جانب جہاں پھلوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں وہیں سبزیوں میں ہرے مصالحے کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں ۔رمضان المبارک میں بڑے بڑے دکاندار بھی ریڑھیوں پر سامان رکھ کر سڑکیں بلاک کرکے سامان بیچتے ہیں جو قطعی طور پر ناجائز ہے۔مگر اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہر سڑک اور چوراہے پر ٹریفک بند ہوجاتی ہے اور یہ ریڑھیوں پر سامان بیچنے والے دکانوں سے کئی گنا زیادہ سامان فروخت کرتے ہیں۔ خریدار یہ سمجھ کر سامان لے لیتا ہے کہ ریڑھی پر سامان بیچنے سے اخراجات کم ہوں گے لہٰذا یہ مناسب قیمت پر سامان فروخت کر رہا ہوگا مگر رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر وہ شخص دھوکہ دہی کا مرتکب ہورہا تھا اور اکثر دکاندار کم قیمت پر لایا گیا سامان مہنگے داموں فروخت کرکے ساتھ قسمیں بھی کھا رہے ہوتے ہیں. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہی ناجائز منافع خور رمضان میں زیادہ سے زیادہ خیرات و صدقات بھی کرتے ہیں مگر ناجائز منافع کما کر اس میں سے خیرات کرنے سے وہ مال پاک نہیں ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم بد دیانت اورجھوٹے نہیں ہیں۔لیکن مولانا طارق جمیل صاحب آپ کہتے ہیں میری قوم جھوٹ چھوڑ دے۔ میری قوم بد دیانتی چھوڑ دے۔ میری قوم بے حیائی چھوڑ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں