0

کھیلوں کے شائقین کیلئے خوشخبری، چھٹے ایشین بیچ گیمز 2020ء کی تیاریاں

اسلام آباد(نیوزڈیسک) چھٹے ایشین بیچ گیمز 2020ء کی تیاریاں جاری ہیں۔ پاکستان بیچ اتھلیٹکس، بیچ ہینڈ بال، جوجتسو، بیچ کبڈی، سیلنگ، بیچ والی بال اور بیچ ریسلنگ میں حصہ لے گاکورونا وائرس کی تباہ کاریاں چین کے صوبے ووہان سے شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وباء عالمی سطح پر اس تیزی سے پھیل گئی کہ پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کاسہارا لینا پڑا۔اس وبا نے جہاں دنیا بھر کے کاروبار کو تباہ کر دیا وہیں سماجی فاصلے بھی بڑھا دیئے۔ تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں، مذہبی عبادات زیادہ تر گھروں تک محدود ہو گئیں اور پھر ٹوکیو اولمپکس 2020ء کے ایک سال کے لئے التواء سے شروع ہونے والا سلسلہ اس تیزی سے بڑھنے لگا کہ رواں برس کے 90 فیصد سے زائد کھیلوں کے مقابلے ملتوی کر دئیے گئے اور میدان ویران ہوگئے۔چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بعد وہیں سے کھیلوں کے شائقین کیلئے خوشخبری بھی آ گئی ہے۔ چائنیز نے جس طرح جواں مردی، ہمت اور صبر سے اس وبا کا مقابلہ کیا اور اسے کنٹرول کیا، وہ پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے اور اب چین نے صوبے ہائنان کے ساحل سمندر پر واقع شہر سنیا میں چھٹے ایشین بیچ گیمز کی میزبانی کے لئے بھرپور تیاریاں شروع کرکے کھیلوں کے شائقین کو ناصرف خوش خبری دے دی ہے بلکہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں، آفیشلز اور منتظمین کے لئے امید کی ایک کرن بھی پیدا ہو گئی ہے کہ انشاء اللہ کھیلوں کے میدان بہت جلد دوبارہ آباد ہوں گے۔چھٹے ایشین بیچ گیمزکے مقابلے 28 نومبر سے 6 دسمبر 2020ء تک سنیا( چین) میں منعقد ہوں گے۔ پاکستان سات کھیلوں میں حصہ لے گا۔ قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے ساتھ مشاورت کے بعد پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن نے قومی دستے کی سات ایونٹ میں حصہ لینے کی منظوری دیدی ہے جن میں بیچ اتھلیٹکس، بیچ ہینڈ بال، جوجتسو، بیچ کبڈی، سیلنگ، بیچ والی بال اور بیچ ریسلنگ شامل ہیں۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کو مقررہ ڈیڈ لائن تک اپنی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے اور مذکورہ بالا کھیلوں میں حصہ لینے کے لئے گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کو انٹری بھجوادی جبکہ پی اواے کے سیکرٹری جنرل خالدمحمود نے متعلقہ فریقین کو آگاہ کرکے تیاری کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ان کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی نے اولمپک کونسل آف ایشیاء (او سی اے) کو لکھے گئے ایک خط میںبتایاہے کہ چین کے صوبہ ہائنان میں 8 مارچ کے بعد کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اورہسپتال سے کورونا کا آخری مریض بھی صحت یاب ہو کر فارغ ہو گیا جس کے بعد کھیلوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔او سی اے اس ضمن میں آرگنائزنگ کمیٹی، چائنیز اولمپک کمیٹی اور ایشیاء کے پانچ زون میں تمام قومی اولمپک کمیٹیوں کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی جاری رکھے گی۔چین دوسری بار ایشین بیچ گیمز کی میزبانی کررہاہے، پہلی بار 2012ء میں حیانگ شہر کومیزبانی کا شرف ملا اور اب سنیا چین کا دوسرا ساحلی شہر ہے جسے ان کھیلوں کی میزبانی کرنی ہے۔ایشین بیچ گیمز (اے بی جی) ایک ملٹی سپورٹ ایونٹ ہے جس میں پورے براعظم ایشیاء کے اتھلیٹس حصہ لیتے ہیں۔ اولمپک کونسل آف ایشیاء کے زیراہتمام ایشین گیمز کے بعد منعقد ہونے والا یہ دوسرا بڑا ملٹی سپورٹ ایونٹ ہے۔ سمندری ساحلوں پر پہلے سے موجود بیچ اور اوشین کی بدولت کم لاگت سے وینیوز کی تیاری کے باعث ان کھیلوں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ابھی تک پانچ ممالک کو ان کھیلوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو چکا ہے اور 45 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ہے۔ پہلے ایشین بیچ گیمز 18 سے 26 اکتوبر 2008ء انڈونیشیاء کے شہر بالی میں منعقد ہوئے جن میں 41 ممالک کے 1665کھلاڑیوں نے 17 کھیلوں کے 59 مقابلوں میں حصہ لیا۔دوسرے ایشین بیچ گیمز 8 تا 16 دسمبر 2010ء اومان کے شہر مسقط میں کھیلے گئے جن میں 43 ممالک کے 1131 اتھلیٹس نے 14 کھیلوں کے 52 ایونٹس میں مقابلہ کیا۔تیسرے ایشین بیچ گیمز 16 سے 22 جون 2012ء چین کے شہر حیانگ میں منعقد ہوئے جن میں 43 ملکوں کے 1336 اتھلیٹس نے 13 کھیلوں کے 49 مقابلوں میں زور آزمایا۔چوتھے ایشین بیچ گیمز 14تا 23نومبر 2014ء تھائی لینڈ کے شہر پھوکٹ میں ہوئے جہاں 42ممالک کے 2335 کھلاڑیوں نے سب سے زیادہ 26 کھیلوں کے 168ایونٹس میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔پانچویں ایشین بیچ گیمز 24ستمبر سے 3اکتوبر 2016ء ویتنام کے ساحلی شہر دانانگ میں منعقد ہوئے جن میں 41ملکوں کے 2197 اتھلیٹس نے 14کھیلوں کے 172 مقابلوں میں حصہ لیا۔اب چھٹے ایشین بیچ گیمز کے لئے ایک بار پھر چین کو میزبانی ملی ہے اور اب چین کے ساحلی شہر سنیا میں 28نومبر سے 6دسمبر 2020ء تک منعقد ہوں گے جن میں 22کھیل شامل ہیں۔ ان کھیلوں کی افتتاحی تقریب 28نومبر اور اختتامی تقریب 5دسمبر کو ہوگی۔پاکستان کا قومی دستہ کل ساتھ کھیلوں میں حصہ لے گا جن کا ذکر اوپر کیا جاچکاہے اورپی اواے نے آرگنائزنگ کمیٹی کو تحریری طورپر آگاہ بھی کر دیاہے۔ایشین بیچ گیمز میں اب تک تھائی لینڈ 130 طلائی، 97چاندی اور 91کانسی کے ساتھ مجموعی طور پر 318تمغوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پاکستان نے ان کھیلوں میں ابھی تک 6گولڈ، 14سلور اور 16 برونز کے ساتھ مجموعی طورپر 36میڈلز جیتے ہیں۔مکائو، سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، فلسطین اور سعودی عرب ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ابھی ایشین بیچ گیمز میں ایک بھی گولڈ میڈل حاصل نہیں کیا جبکہ مالدیپ، نیپال، فلسطین اور سعودی عرب نے ابھی تک پانچ ایشین بیچ گیمز میں صرف ایک، ایک کانسی کاتمغہ حاصل کیا ہے۔پاکستان ریسلنگ ٹیم سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور امید ہے کہ انعام بٹ پہلوان سمیت ہمارے دیگر ریسلر ضرور میڈلز حاصل کریں گے۔ پانچویں ایشین بیچ گیمز دانانگ، ویتنام میں ہمارے تین ریسلرز محمدانعام بٹ، اسدبٹ اورنذیرعرف ٹینڈا پہلوان نے حصہ لیاتھا،ان کھیلوں میں نذیر ٹینڈے پہلوان نے پاکستان کے لئے چاندی کاپہلا تمغہ جیتاتھا جبکہ انعام بٹ نے انتہائی مضبوط ایرانی حریف کوچاروں شانے چت کرکے طلائی تمغہ اپنے سینے پرسجایا اور ویتنامی ساحل سمندر پر پاکستان کے قومی ترانے کے ساتھ سبزہلالی پرچم سر بلند کیا۔ہمارے تیسرے پہلوان اسدبٹ جن سے بڑی توقعات وابستہ تھیں وہ بھارتی ریفری کے تعصب کاشکار ہوگئے ، ان کی شکست اس قدر ناقابل یقین تھی کہ وہاں ہماری ٹیم کی میزبان ایک مقامی طالبہ نے رو، رو کر اپنا برا حال کرلیا تھا۔ ریسلنگ کے ساتھ اس بار دیگر کھیلوں میں بھی اچھی کارکردگی متوقع ہے تاہم اس کادارومدار اس بات پر منحصر ہے کہ کورونا وائرس کی کیاصورتحال رہتی ہے اورلاک ڈائون کب ختم ہوتاہے جس کے بعد حکومت کی جانب سے ان کھیلوں کے لئے کوچنگ کیمپوں کا انعقاد کب سے کیاجاتاہے؟حکومت نے کم ازکم تین، تین ماہ کے ٹریننگ کیمپ لگائے اورکھلاڑیوں کو جدید سہولیات کے ساتھ انٹرنیشنل کوچز کی خدمات فراہم کی گئیں تو میڈلز یقینی ہوں گے ورنہ ایشین گیمز اوردوسرے انٹرنیشنل کھیلوں کی طرح مایوسی کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ہمارے اتھلیٹس کو سہولیات دی جائیں اورباقاعدہ ٹریننگ کیمپ منعقدکیاجائے تو بیچ اتھلیٹکس میں ضرور تمغے آئیں گے، بیچ ہینڈ بال ٹیم کی کارکردگی گزشتہ بیچ گیمز میں بھی تسلی بخش تھی تاہم موجودہ حالات میں ہمیں ٹیم کی پریکٹس و کوچنگ کااہتمام کرناہوگا۔جوجتسو ٹیم نے پاکستانی قوم کو کبھی مایوس نہیں کیااورہمیشہ میڈلز دئیے لیکن صرف ماضی کی کارکردگی دیکھ کر مستقبل میں امیدیں وابستہ کرنا کھیل کے شعبے میں ممکن نہیں کیونکہ سپورٹس میں جدید ٹریننگ کے ساتھ فٹنس اورپریکٹس کوبہت اہمیت حاصل ہے اورہمارے اتھلیٹس مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اکثر فٹنس مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔کبڈی میں بھی اس وقت پاکستان عالمی چیمپئن ہے لیکن بیچ کبڈی کے لئے ٹیم کو حالات سازگار ہوتے ہی بھرپور ٹریننگ شروع کرنا ہوگی کیونکہ ایران اورانڈیاسمیت کئی دیگر ایشیائی ممالک کی ٹیموں کی کارکردگی بھی حیران کن طورپر بہتر ہورہی ہے اورمقابلے کے لئے ہمارے کھلاڑیوں کوسخت محنت کی ضرورت ہے۔ سیلنگ بھی ایسا ایونٹ ہے جس میں پاکستان ایشیائی سطح پر میڈلز جیت چکاہے اور ہمارے سیلرز کو اگر کم ازکم تین ماہ باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تو پھر میڈل کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایشین گیمز جکارتہ میں جہاں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی وہیں ایک اچھی بات ہماری والی بال ٹیم کی نمایاں کارکردگی تھی جس نے ثابت کیاکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں اوراگر پاکستان سپورٹس بورڈ اورفیڈریشن نے سنجیدگی کامظاہرہ کیا اورزبانی جمع خرچ کی بجائے مناسب کیمپ لگایاگیاتو پاکستان بیچ والی بال میں بھی وکٹری سٹینڈ پر پہنچ سکتاہے۔بات وہیں آ جاتی ہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے دوست ہمسایہ ملک چین کی تقلید کرناہوگی اورصبر، ہمت وحوصلے کے ساتھ اس وباء کوشکست دینے کے بعد اپنے کھیلوں کے میدان آباد کرنے اورعالمی سطح پر اپناکھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھناہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں