0

کلمہ حق راہ حسینی

کسی معاشرے میں مروجہ روایتیں اور رسومات توڑنا بہت مشکل کام ہے اور جھوٹ کے بازار میں سچ بولنا اس سے بھی مشکل تر۔۔یہ قوم سچ سننے کی روادار نہیں لیکن افسوس طارق جمیل صاحب بھی سچ بول کر فورا ہی گبھرا گئے اور معذرت کر کے پیچھے ہٹ گئے ،یہ کام شاید دعوت و تبلیغ سے کہیں مشکل ہے، کیونکہ جب تک آپ صرف ممبر و محراب پر رہیں، کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ،لوگ آپ سے دعائیں بھی کروائیں گے ، آپ کے پائوں بھی دابیں گے ، آپ کے آستانوں پر بھی حاضری دینگے بلکہ ہوسکتا ہے یہ لوگ اپ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر عمرے اور حج بھی کرا دیں لیکن جیسے ہی آپ کسی مافیا کیخلاف بات کرینگے ، نظام کو للکاریں گے تو یہی لوگ آپ کی جان کے دشمن بن جائیں گے ۔
ایسے موقع پر نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر کوئی اپنے مشن پر ڈٹا رہے تو یہ بڑے دل گردے کی بات ہے لیکن اکثریت مصلحت کا شکار ہوکر سمجھوتہ کر لیتی ہے
یہ دراصل حسینی راہ ہے جو ہر کوئی نہیں چن سکتا نہ ہی اس پر مستقل مزاجی سے چل سکتا ہے۔ یزید کو بھی امام کے وعظ و تبلیغ سے کوئی مسئلہ نہ تھا ، وہ اس بات پر راضی تھا کہ وہ مسجد و منبر میں مداخلت نہیں کرے گا بدلے میں امام اس کی حکومت و سلطنت میں مداخلت نہ کریں، ریاست کے اندر جھوٹ، کرپشن ، اقربا پروری سمیت جو بھی برائی ہو اس پر کوئی بات نہ کی جائے ، سماجی برائیوں سے متعلق کوئی بات نہ ہو ۔ امام کو یہ منظور نہ ہوا اور انھوں نے اپنے نانا کے دین کو فقط مسجد و منبر تک محدود کرنے کی سازش ناکام بناتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔
یہ آسان راہ ہے بھلا ؟
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
ازل سے یہی رہا ہے قلندروں کا طریق!!
یہ وہ مقام رضا ہے کہ جہاں آپ حق بات پر ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے طعن و تشنیع سنیں ،برداشت کریں اور جواب میں کچھ کہنے کی بجائے اجر یا بدلہ اس پر چھوڑ دیں جس کی خاطر آپ حق پر ہوتے ہوئے بھی یہ گالیاں اور طعنے سن رہے ہیں ۔
مولانا دعوت و تبلیغ کی تاریخ کا وہ روشن ستارہ ہیں جن کی روشنی سے ان گنت لوگ منور ہوئے ہیں ، لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا ہے، وہ باقی اکابرین تبلیغ سے اس لیے مختلف ہیں کہ انھوں نے فقط نماز روزہ حج زکوٰۃ کی تلقین کے علاؤہ لوگوں کو سماجی معاشرتی طبقاتی برائیوں سے بھی آگاہ کیا ہے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی کی باتیں کی ہیں ، ہمیں ان سے بہت سی امیدیں ہیں، انھوں نے ہمت کر کے اگر کچھ سچ کہہ ہی دیا تھا تو گبھرانے کی ضرورت نہیں تھی ۔
سچے اور جھوٹے لوگ ہر شعبہ زندگی میں ہیں ، ہمارا معاشرہ جس زوال و انحطاط کا شکار ہے ، اس میں کوئی شعبہ بھی پاک دامن نہیں رہا ۔میڈیا ہو یا سیاسی میدان کوئی اس زوال و انحطاط سے خالی نہیں ۔ اس لیے مولانا نے اگر جزوی طور پر کسی شعبے میں جھوٹ کی طرف اشارہ کیا ہے تو اس پر سیخ پا ہونے کی بجائے ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ویسے بھی انھوں نے کسی خاص شخصیت یا چینل کا نام نہیں لیا بلکہ عمومی بات کی ہے اور ایک داعی کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ برائی سے آگاہ کرے اور اچھائی کی تلقین کرے ۔
رہی بات میڈیا کی تو ہمارے سنئیر اینکرز اور دیگر کو مولانا کی بات کا برا منانے کی بجائے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جس پر ایک نیک نام مبلغ کو ایسے جملے کہنے پڑے ؟ مولانا نے وہی کہا جو عوام کی اکثریت میڈیا کے بارے میں رائے رکھتی ہے ، ابھی کل ہی محترم عامر خاکوانی صاحب نے اپنی فیس بک وال پر میڈیا سے متعلق ایک سروے کیا ہے ، خاکوانی صاحب بہت سنئیر صحافی اور معتدل سوچ رکھنے والے کالم نگار ہیں تاہم ان کی وال پر بھی عوام کی اکثریت نے میڈیا کو جھوٹا قرار دیکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ، یہ بات بہت الارمنگ ہے ، آخر کوئی تو وجہ ہے جس پر صحافی اور صحافت اپنا وقار اور ساکھ عوام میں کھو رہی ہے ، ہمیں ہر حال میں یہ ساکھ بچانی ہوگی اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے عوام میں اپنا وقار بحال کرنا ہوگا ورنہ یہ تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہے کہ جو بات مولانا نی ٹی وی پر کہی وہ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا پاکستانی کر رہا ہے ۔
مولانا نے صرف میڈیا کی ہی نہیں پورے معاشرے کی بات کی تھی جس کے زوال و انحطاط میں اب کوئئ شک باقی نہیں رہا۔ یقین نہ آئے تو ذرا بازار کا چکر لگا آئیں ، کل پہلا روزہ تھا اور ایک ہفتہ قبل دو سو روپے دھڑی ملنے ولا آلو ساڑھے تین سو اور 100 روپے کلو ملنے والے لیموں 150 روپے د پائو پر پہنچ گئے ہیں ، معافی پھر بھی طارق جمیل نے مانگنی ہے ۔۔
انھوں نے اگر پہلے سے ننگ دھڑنگ معاشرے کو بے نقاب کیا ہے تو کیا برا کیا ؟
جن لوگوں کو ان کی دعا پر اعتراض ہے ، وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں ،کیونکہ انکی نظر میں مولانا صاحب کو دعا کچھ یوں مانگنی چاہیے تھی:-
” یا اللہ ہم ایک ایماندار اور پرہیزگار قوم ہیں ، ہمارے تاجر جائز منافع لیتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں ، ہمارے ہاں دودھ ، مرچ مصالحوں سے لیکر ادویات تک ہر شے خالص موجود ہے،، ہمارے پڑوسی رج کے روٹی کھاتے ہیں اور بچی ہوئی کتوں بلیوں کو بھی ڈال دیتے ہیں ، ہمارے بچے گندی میلی نگاہوں سے ایسے پاک ہیں جیسے وزیر اعظم کے ارد گرد موجود لوگ کرپشن سے ۔۔ ہماری عورتیں رات کے دو بجے بھی باہر نکلیں تو کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ہمارے سرکاری ملازمین ریاست سے وفادار اور حق حلال کھانے والے ہیں ،ہماری پولیس عوام کی سچی خادم ہے ، ہماری عدالتوں کے تیز ترین انصاف کی دنیا مثالیں دے رہی ہے ، ہمارے ہاں دریا کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کی موت کا ذمہ دار بھی حاکم وقت ہے ، ہمارا میڈیا بالکل بھی جھوٹ نہیں بولتا جیسے ہمارے حکمران لوٹ مار نہیں کرتے ۔
یا اللہ نہ ہم کسی کا حق کھاتے ہیں نہ فرائض سے غافل ہیں ، ہمارے سینے کدورت ،حسد بغض جیسی بیماریوں سے پاک ہیں۔
پروردگارا ! ہم والدین کے خدمت گزار ، بیویوں سے حسن سلوک کرنے والے اور اپنی اولادوں کی بہترین تربیت کرنے والے ہیں، اپنے ہاتھ سے کمائے رزق حلال میں سے عزیز و اقارب ،یتیم و مساکین کی مدد کرتے ہیں ، ہمارے ہاں میرٹ کی پامالی ہے نہ ہی اقربا پروری اور کسی سے زیادتی کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ہم رشوت لیتے ہیں نا دیتے ہیں اور سود کھانا تو ہم خنزیر کھانے کے برابر سمجھتے ہیں اس لیے اے مالک ارض و سماء آپ نے یہ کرونا وائرس ہماری طرف بھیج کر اچھا نہیں کیا ، اسے ہم سے دور فرما !(کالم نگار کی گذارشات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں )تحریر !طاہر محمود اعوان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں