182

چینی ماہرین داد کے قابل کیوں ۔۔۔۔

ایک فرمان ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ فرمان ایران ، روم ، افریقہ کا تزکرہ کیو نہ کیا گیا آخر چین ہی کیو فرمایا گیا وقت گُزرتا گیا آخرکار وقت انسانوں کو اس موڑ پر لے آیا کہ چینی ماہرین سب سے آگے نکل گہے انکی مہارت نے سب کو مات دے دی ۔۔
اسرائیل اخبار کے دعوے سے قبل کہ کس طرح اس منحوس چراثیم کی تیاری ہوہی اور کون سے تین ممالک اس میں۔ملوث ہیں۔اسکی فنڈنگ کس نے کی آج پوری تفصیل تو نہیں لکھ پاوں گا مگر آج یہ تین ممالک کیوں پریشان ہیں انکی پریشانی کو چینیوں نے کیسے بڑھا دیا اسرائیل وزریر صحت اور وزیردفاع کی باتیں آپکو بتا چکا ہوں اب اسرائیلی اخبار کا دعوی ہے کہ اسرائیل اور نیٹو ممالک کو امریکی ادارے نے نومبر 2019 میں بتا دیا تھا کہ چین میں وائرس پھیلنے والا ہے مگر آپ بے فکر رہیں یورپی ممالک سے بھی پہلے امریکی خفیہ ادارے نے اسرائیل کو بتا دیا تھا مگر اب یہ ماہرین پریشان ہیں موت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔آپکو یاد ہو شروع کے دنوں میں ٹرمپ بڑا خوش تھا کہ اب انکی خوشی خاک میں ملتی جا رہی ہے
انھوں نے چینیوں کا مزاق اُڑایا اور کرونا کو چینی واہرس قرار دے دیا مگر اب ہر طرف پریشان ہیں کہ کیسے روکا جاہے پہلے خوش تھے اب پریشان کیو ہیں ۔ ؟
وہ خوش اسلیے تھے کہ انھوں نے آٹھ سال پہلے یہ واہرس تیار کیا تھا علاج کیلیے ویکسین بھی تیار کی تھی کامیاب تجربہ بھی کر لیا تھا اب یہ وائرس چین اسلیے بھیجا کہ چین کی ترقی سے خاہف تھا ۔ وہ چین کو معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتے تھے جب یہ وائرس چین میں پھیلا تو وہ بہت خوش تھے اور اسکے بعد جب یہ یورپ امریکہ میں پھیلا تب بھی خوش تھے کہ ہمارے پاس تو علاج موجود ہے مگر جونہی وائرس لاعلاج بنا تو پریشانی بڑھ گہی جونہی اپنی اسٹاک ایکسچینج گِرنا شروع ہوہی تو پریشانی اور بڑھ گہی کہ یہ کیا ہو گیا ۔
تمام دوست اس بات کو زہن نشین کریں کہ واہرس چین میں اسکے صنعتی صوبے وہان میں پھیلایا گیا چین کے بقول یہ وائرس امریکی فوجی یہاں لے کر آہے چین نے وہان کو بند کیا اور حدیث سے ثابت اُصول پر عمل کیا اور پورے وہان کو بند کر دیا کرونا سے ہلاک ہونے والے ایک مریض کا پوسٹ مارٹم کیا اور ریسرچ کی تو چینی ماہرین اس نتیجے پر پینچے کہ بایوپین ہے اس ہتھیار سے دشمن چین کو زیر کرنا چاہتا ہے چینی ماہرین نے ریورس ٹیکنالوجی کے زریعے اسکو ڈی کوڈ کیا پھر اس پر نہے کوڈ لگا دیے اس نہے کوڈ کے زریعے چین نے اس وائرس کو دوسرے شہروں اور صوبوں سے نہ پہنچنے نہ دیا اور اس واہرس کو لندن اور امریکہ پہنچا دیا جہاں سے لایا گیا تھا اور دشمن کے بے شمار شہروں تک پہنچا دیا چین نے وائرس کے ابتداہی دنوں میں ہی تمام ممالک کو انکے باسی واپس بھجوا دیے چین نے صرف پاکستان پر احسان کیا اور چین میں پڑھنے والے طالب علموں کو واپس نہ بھیجا نہ ہی کسی پاکستانی تاجر کو واپس آنے دیا ۔پاکستان میں مظاہرے بھی ہوے عدالت تک بات گہی مگر چین نے پاکستانی حکومت کو سمجھادیا تھا سو اب ہم کہ سکتے ہیں پاکستان میں جتنا کرونا آیا ایران ، سعودیہ امریکہ یا یورپی ممالک سے آیا آپ نے ایک اور بات سُنی ہوگی کہ وہان والے واہرس سے یہ تھوڑا مختلف ہے اب دُنیا میں جو وائرس پھیلا ہوا ہے یہ نہی کوڈنگ کے ساتھ ہے امریکہ اسرائیل اور برطانیہ کے پاس جو ویکسین تیار ہے وہ پُرانی کوڈنگ کے ساتھ ہے انھوں نے جب اسکو آزمایا وہ بے اثر نکلی انکے ماہرین نے کہا کہ کلوروکوین دی جاہے جسکے حصول کی خاطر ٹرمپ نے انڈیا کو دھمکی دی کہ مگر افسوس جتنے مریضوں کو کلوروکوین دی گہی وہ بھی جان کی بازی ہار گہے جب انکے پاس علاج نہیں رہا تو علاج لاک ڈاوُن کو کر دیا گیا مگر کب تک ؟؟ امریکہ کے مختلف شہروں میں لاک ڈاون کے خلاف مظاہرے شروع ہو گہے ہیں
اسی صورتحال میں جب یورپ کی مارکیٹ کریش کر گہی چینیوں نے یورپ اور امریکہ کی بہت کی کمپنیاں سستے داموں خرید لی ۔۔ پھر ایک دن میں اسٹک ایکسچینج کو ایک دن اُٹھا کر اپنا سارا نقصان پورا کر لیا اور نفع بھی کما لیا ۔اب صرف چین نفع کما رہا ہے پوری دُنیا اسکی ویکسین ڈھونڈ رہی ہے سواہے چین کے یہ چین ہی تھا جس نے وائرس کو ڈی کوڈ کیا اور نہے کوڈ کے ساتھ اپنے دشمنوں کو تماشہ دیکھ رہا ہے دُنیا عجیب ہے جو علاج ہے اسے مان نہیں رہی اس میں ڈبلیو ایچ او کا مافیا بھی شامل ہے چین اور مغربی دُنیا کیلیے شاہد غالب نے کہا تھ ۔۔
بازیچہ اطفال ہے دُنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے
تحریر و تحقیق یاسر عباسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں