سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا حکم

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سعودی عرب میں جرم کرنے پر کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔برطانوی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی سلطنت کی سپریم کورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ ملک میں کوڑے مارنے کی سزا کو قید، جرمانے یا دونوں سے تبدیل کیا جائے گا۔عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی ہدایت پر کیا گیا ہے جبکہ یہ اصلاح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات میں توسیع ہے جو فرمانروا شاہ سلمان کی ہدایات اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں متعارف کروائی گئی ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں کئی جرائم پر کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے اور انفرادی ججز اپنے طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق مجرمان کو سزا سناتے ہیں۔انسانی حقوق کے گروپوں نے ماضی کے ایسے متعدد کیسز سامنے رکھے تھے جن میں سعودی ججز نے ہراساں اور سرعام نشہ کرنے سمیت کئی جرائم میں مجرمان کو کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔ریاست کے حمایت یافتہ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) کے سربراہ عواد العواد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ اصلاح سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایجنڈا میں یادگار قدم ہے اور سلطنت میں حالیہ کی گئیں کئی اصلاحات میں سے ایک ہے۔انسانی حقوق واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم کوگلے کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند تبدیلی ہے لیکن اسے کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی راہ میں اس کے غیر منصفانہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اب کوئی رکاوٹ نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں