0

خواتین ڈاکٹرز کی بھی سخت لاک ڈاؤن کی اپیل

اسلام آباد(نیو زڈیسک)لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کےبڑھتے کیسز پر مسیحا فکرمند ہوگئے، مرد ڈاکٹرز کےبعد خواتین ڈاکٹرز نے بھی حکومت سے سخت لاک ڈاؤن کی اپیل کردی، اُن کا کہنا ہے کہ اپنی جان کی تو پروا نہیں لیکن اپنی فیملی کی تو سب کو پروا ہوتی ہے۔خواتین ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اگر لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو کورونا مرض پھیلے گا، ایک ڈیڑھ ماہ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کیا گیا تو کورونا روکنے میں مدد ملے گی۔ان خیالات کا اظہار کوروناوائرس کےحوالے سے کراچی پریس کلب میں خواتین ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ خواتین ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ لوگ جہاں بھی جائیں ماسک ضرور پہنیں، لاک ڈاؤن جن دنوں سخت تھا تو کورونا کے کیسز قابو میں تھے، ڈاکٹر صفیہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی لاک ڈاون میں نرمی ہوئی کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے۔پریس کانفرنس کےدوران احتیاط کی ہدایات کرتے ہوئے ڈاکٹر نصرت آبدیدہ ہو گئیں اور کہا کہ ڈاکٹرز گھر جاکر اپنے ماں باپ اور بچوں سے ملتےہیں، ڈاکٹرز کو کچھ ہوا تو کون کورونا کے مریض سنبھالے گا۔ڈاکٹرنصرت کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ذمےداریوں سے نہیں بھاگ رہے، ہم روزانہ کی بنیادوں پر سیریس مریضوں کا علاج کر رہےہیں، حمل کے دوران جو بھی انفیکشن ہوتا ہے وہ خطرناک ہوتا ہے، ہمارے لیے ماں اور بچے کو بچانا مشکل ہوگیا ہے، حکومت بہت کچھ کررہی ہے، سندھ حکومت نے اچھے کام کیے، اگر گھر سے باہر نکلنا ضروری ہو تو احتیاط کے ساتھ نکلیں۔ڈاکٹر نصرت نے کہا کہ اس وائرس سےلڑائی کا ایک ہی طریقہ ہے اس سے بچاؤ کریں، ٹیلی کلینک شروع ہوئے ہیں ہم لوگ بھی ٹیلی کلینک شروع کررہے ہیں۔ کورونا سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی تیزی سے متاثر ہورہا ہے، حکومت انسانی جانوں کےتحفظ کے لیے لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرے، چین کے طرز کا سندھ میں بھی لاک ڈاون کیا جائے۔ایک اور خاتون ڈاکٹر نگہت کا کہنا تھا کہ معالجین لوگوں کو سمجھانے کیلئے ہاتھ جوڑنے اور پاؤں پڑنے پر مجبور ہو گئےہیں، کل ڈاکٹر عبدالباری خان اور ڈاکٹر قیصر ہاتھ جوڑ رہے تھے، آج ہم ہاتھ جوڑ رہےہیں، ہم ادھر سیاست کرنے یا حکومت چلانےنہیں، عوام میں شعور اجاگر کرنے آئے ہیں۔ حکومت بہت کچھ کررہی ہیں، خدارا بس گھروں میں رہیں، پاکستان میں 264 ڈاکٹرز و طبی عملہ کورونا سے متاثر ہوچکا ہے، 3 جاں بحق ہوچکے، ہم اسپتالوں میں برےحالات دیکھ رہے ہیں، معاملات تیزی سے ہاتھ سےنکل رہے ہیں، خواتین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں، زندگی رہےگی صحت رہےگی تو پیسا آجائےگا، ہمیں کورناوائرس کامقابلہ کرناہے۔ ڈاکٹر نصرت اقبال نے کہا کہ وہ وقت نہ آجائے کہ ہم آئی سی یو میں لوگوں کو سنبھال نہ سکیں۔ڈاکٹر رضیہ کوریجو نے کہا کہ وائرس بڑھنے کے امکانات ہیں، ہمارے پاس علاج نہیں صرف احتیاط ہے، ہم ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ تمام لوگ گھروں میں رہیں، اگر ہم نے احتیاط نہیں کی تو یہ معاملات مکمل طور پر بے قابو ہوجائینگے۔نصرت اقبال نے کہا کہ ہمیں تین محاذ پر کام کرنا ہے، کورونا ختم کرنا ہے، مریضوں کی حفاظت کرنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کےلئے سماجی فاصلہ رکھنا ہے۔ اسکے لیے لاک ڈاؤن موثر اور سو فیصد ہو۔ آنے والے دو ہفتے بے حد مشکل ہیں۔ڈاکٹر رضیہ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو گھروں تک رکھیں، ہمارے پاس آئی سی یوز اور وینٹیلیٹرز نہیں ہم کیسے اپنے لوگوں کو بچائیں گے۔ڈاکٹر فرح ابو ہالہ نے کہا کہ ڈاکٹرز کو پی پی ای کٹس نہیں مل رہی ہے، ڈاکٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر خدمت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں