0

“مولانا صاحب اور جھوٹ”

گزشتہ شب مولانا طارق جمیل صاحب کی میڈیا میں جھوٹ عام ہونے والی بات پر وہاں موجود اینکرز کا اپنے پروگرامرز میں تلملانا سمجھ سے باہر ہے۔ حامد میر صاحب اپنے پروگرام میں فرماتے ہیں کہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا کہاں کی شرافت ہے مولانا صاحب، جس چینل کے مالک نے آپ سے ایسی غلیظ بات کی تھی، اُس کا نام سر عام لے کر لعنت بھیجتے۔ دوسری جانب کامران شاہد صاحب تو ہتھے سے اکڑ گئے فرماتے ہیں کہ مولانا صاحب آپ نے 22 کروڑ عوام کو ہی جھوٹا اور بے حیا کہہ دیا جب کہ ابھی خواجہ صاحب والے کوئی شرم کوئی حیا والے نیک بشر قوم میں موجود ہیں۔ اس سب میں مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ مذکورہ اینکر صاحبان نہ تو روٹی کو چوچی کہتے ہیں نہ ہی ان کے دودھ کے دانت تاحال سلامت ہیں تو پھر سچی بات کو ہضم کرنا اس قدر مشکل کیوں ہو رہا ہے۔عوام کو چھوڑیں لیکن میڈیا میں کام کرنے والے میرے ساتھی اس بات کی نفی کر دیں تو میں بھی مان جاؤں گی کہ میڈیا میں جھوٹ نہیں بولا جاتا اور پروپیگنڈہ کسی اور دنیا کا لفظ ہے، اور یہ کہ آج تک ہم نے میڈیا میں جو تجربہ کیا وہ صرف ایک بیانک خواب تھا۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ:
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں