حکومت پاکستان کی لوگوں کو نماز تراویح گھر میں ادا کرنے کی ہدایت۔۔۔رمضان المبارک میں شام اور رات کے اوقات میں لوگوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے لوگوں کو نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کی ہدایت کر دی صوبے میں شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک کرفیو نافذ ہوگا، لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے کی مساجد میں نماز تراویح کے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کا فیصل کیا ہے۔ا س حوالے سے سندھ حکومت نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران گھروں میں ہی تراویح اور دیگر نمازیں ادا کریں۔ جبکہ رمضان المبارک کے دوران شام 5 بجے سےصبح 8 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں شام 5 سے صبح 8 بجے تک کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے ملک میں نافذ لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ تاہم صوبائی حکومتوں کو لاک ڈاؤن کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے وزیراعظم کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وفاقی حکومت نے ملک گیر لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کردی ہے۔ملک بھر میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت بھی بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سحراور افطاری میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 57لاکھ خاندانوں تک احساس پروگرام کے تحت69 ارب کی امداد پہنچائی جاچکی ہے۔پاکستان نے کورونا کی صورتحال میں قوم ہونے کا ثبوت دیا ، جس کی وجہ سے کمی ہوئی۔سائنسی تجزیوں اور جائزوں کے تحت دیکھا جا رہا ہے کہ بیماری کو آئندہ کے لحاظ دیکھا جاتا ہے، جس سے پھر وینٹی لیٹرز، ماسک اور بیڈز کا انتظام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان اور مئی کا مہینہ فیصلہ کن مہینہ ہے، اگر ہم نے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا تو عید کے بعد معاشرہ پھر عام زندگی کی طرف واپس چلا جائے گا، لیکن خدانخواستہ ہم نے بداحتیاطی کی تو پھر ہوسکتا ہے کہ ہمیں عید کے موقع پر مزید بندشیں لگانا پڑیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نے کہا کہ کورونا پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے امتحان ہے۔ کورونا وبائی بیماری ہے، کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کب تک رہے گا۔قوم بن کر اس امتحان میں نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ بھارت، بنگلا دیش اور افریقہ جیسے ممالک مشکل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، یورپ اور برطانیہ سے ہمارے حالات مختلف ہیں۔ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر میری رائے مختلف تھی۔ لاک ڈاؤن سے کمزور طبقہ پس گیا ہے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھی، ہمیں لاک ڈاون کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنے چاہیے تھے۔تعمیرات کھل رہی ہیں اب ہم جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ جس علاقے میں کورونا ہو صرف اسے لاک ڈاؤ ن کیا جائیگا باقی میں کاروبار چلتا رہےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرمبادلہ گرگیا ہے۔ ٹیکس گرگیا ہے، کاروبار بند ہوگئے پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کورونا کے معاملے پر ابھی کوئی امداد نہیں ملی۔ آئی ایم ایف نے صرف قسطوں میں سہولت دی۔ ہمیں صرف غیرملکی قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی میں ایک سال کی رائٹ ملی۔ کسی ملک یا عالمی ادارے نے ایک ڈالر بھی مدد نہیں کی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم پورے پاکستان میں شروع کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں