کیا کورونا واقعی چین میں تیار ہوا؟پہلی بار ووہان لیب بھی میدان میں آگئی    

بیجنگ(نیوز ڈیسک )ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے مطابق ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ ڈاکٹر یوآن زمنگ نے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے سازشی مفروضوں کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ ناممکن اور جھوٹ ہے کورونا کو ہمارے ادارے کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ڈاکٹر یوآن زمنگ کا کہنا تھا کہ یہ گمراہ کن باتیں ہیں کہ کورونا کو ہماری لیبارٹری میں تیار کیا گیا، ایسی باتیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ کورونا ہماری لیبارٹری میں تیار ہوا ہو، اس کے کوئی بھی ثبوت نہیں ہیں اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ نے چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لیبارٹری کا کوئی بھی رکن کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا تھا، ایسی باتوں میں کوئی سچائی نہیں اور وہ اس بات پر حیران ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا ان کی لیبارٹری میں بنا اور پھر وہاں سے پھیلا۔ڈاکٹر یوآن زمنگ کے مطابق پوری دنیا جانتی ہے کہ ہمارا ادارہ کس طرح کی تحقیقات پر کیسے کام کرتا ہے، ہماری لیبارٹریز میں کورونا وائرس جیسے دیگر خطرناک وائرسز پر تحقیقات ہوتی ہیں لیکن ایسا کوئی راستہ نہیں کہ کورونا ہماری لیبارٹری میں تیار ہوا اور وہیں سے پھیلا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں