کیا ’’پی سی بی‘‘ تیزی سے دیوالیہ ہونے کی جانب بڑ ھ رہا ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، دوسری جانب “ لاک ڈاؤن” نے کاروباری طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، قرضے کے بوجھ تلے ممالک جس میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے، بین الاقوامی برادری سے قرضے معاف کرنے کی بات کرتا دکھائی دیتا ہے، دوسری جانب کورونا وائرس کے سبب ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر سے ایک کروڑ 40لاکھ افراد کے ملازمتوں سے فارغ کئے جانے کا خطرہ بھی سروں پر منڈلا رہا ہے۔اس تمام صورت حال سے ہٹ کر “ گیم آف جنٹلمین “ کے کھیل کرکٹ میں بھی بین الاقوامی مقابلوں کے آگے لگتے منسوخی اور معطلی کے فیصلوں نے پیسے کی ریل پیل کی چمک سے مزین اس کھیل کے رنگ کو اگر یہ کہا جائے، بہت حد تک پھیکا کردیا ہے، تو کہنا غلط نہ ہوگا۔دنیا کی سب سے بڑی لیگ “ انڈین پریمئیر لیگ” کے 2020ء ایڈیشن کے کورونا وائرس کے سبب بروقت نہ ہونے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے سر پر معاشی تنگ دستی کی تلوار لٹکتی نظر آرہی ہے۔دوسری جانب یہی صورت حال انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کیساتھ بھی درپیش ہے، جسے 100بال ایونٹ نہ ہونے پر ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے، جب کہ بورڈ نے اعلی عہدیداروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔سری لنکن کرکٹ بورڈ جو 2012ء کے بعد پریمئیر لیگ کرانے کا خواہش مند ہے، اس نے اپنے ملازمین کے بونس روکنے کا اعلان کردیا ہے۔کرکٹ آئرلینڈ نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں 20فی صد کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، منظم اور بہترین نظام سے مزین کرکٹ آسڑیلیا کی کورونا وائرس سے حالت اس حد تک پتلی ہوتی نظر آرہی ہے کہ انھوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں حیران کن طور پر 80فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حیران کن طور پر پی سی بی جس کے کام اور فیصلوں پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بیشتر اوقات تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، احسان مانی کی چیئر مین شپ میں عجیب و غریب انداز میں قدم اٹھاتے دکھائی دیتا ہے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پی سی بی کے مالی معاملات میں آئی سی سی کی سالانہ فنڈنگ کا اہم کردار رہا ہے اور چیئر مین احسان مانی نے چند روز پہلے یہ اعتراف کیا ہے کہ پی سی بی کو اس سال جولائی اور پھر آئندہ سال جنوری، فروری تک آئی سی سی کی جانب سے 16ملین ڈالرز دو اقساط میں ملنے کی امید ہے،البتہ انھوں نے ساتھ ہی اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ہمیں یہ ادائیگی بروقت نہ ہو پائے۔دوسری جانب احسان مانی نے کہا کہ چند سالوں کے دوران بورڈ نے اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش پر تین ارب روپے خرچ کئے،اگرچہ ہمیں اس تناظر میں گراونڈ ز پر مزید 5ارب روپے خرچ کرنے ہیں ، تاہم حالیہ بحران کے باعث ہم گراونڈ ز کے منصوبوں کو روکنے پر مجبور ہیں۔احسان مانی مستقبل کے ٹی وی رائٹس اور کمرشل معاہدوں کے حوالے سے بڑی رقوم ملنے کے حوالے سے تحفظات کا شکار دکھائی دیتے ہیں ، ان حقیقتوں سے پردہ اٹھانے والے چیئر مین پی سی بی احسان مانی کے بورڈ کے کمالات ملاحظہ فرمائیے کہ گذشتہ تین روز میں بورڈ کی جانب سے چھ آسامیوں کے لئےاشتہارات دے کر ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا گیا ہے۔ایک ایسے مرحلے پر جب لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے، مختلف بورڈز اپنے اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کر رہے ہیں ،پی سی بی کو ایسے کونسے خزانے کی چابیاں ہاتھ لگ گئیں ہیں کہ وہ اخراجات میں کمی تو دور کی بات نئی اسامیوں کے لئے اشتہارات دے رہے ہیں ، اور ایسا وہ اس وقت کر رہا ہے ، جب بورڈ کے سربراہ مالی معاملات پر مستقبل کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں اور سب سے دل چسپ امر یہ ہے کہ چیئر مین پی سی بی احسان مانی آئی سی سی جو پی سی بی کو مالی اعانت فراہم کرتا ہے ، اس کی مالی امور کی کمیٹی کے سربراہ ہیں ۔کیا یہ سوالات بجا اور بروقت نہیں ؟ دوسری طرف پی سی بی کے اعلی عہدیداروں کی غیر روایتی تنخواہوں میں کٹوتی کے معاملے پر بورڈ کی سطح پر کوئی سوچ ابھرتی دکھائی نہیں دیتی، ایک محتاط اندازے کے مطابق پی سی بی کے سالانہ اخراجات چار ارب کے لگ بھگ ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سات لاکھ روپے تنخواہ ڈائریکٹر مارکیٹنگ بابر حمید کو دینے والا بورڈ کمرشل کنسلٹنٹ کا اشتہار کیوں دے رہا ہے؟ماضی میں ٹی وی رائٹس میں بورڈ کے لئے بطور مشیر خدمات انجام دینے والے احسان مانی اب چیئر مین ہیں، تو وہ خود براہ راست کیوں ان چیزوں کو دیکھنے کے بجائے کنسلٹنٹ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟پھر ہائی پرفارمنس سینٹر کے لئے پی سی بی کا اشتہار ایک مذاق بن گیا ہے، جہاں ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کے لئے لیول ٹو کی شرط رکھی گئی ہے، جب کہ اس کے ماتحت عملے کے لئے لیول تھری کا پیمانہ سمجھ سے باہر ہے۔اس ساری صورت حال میں جب پی سی بی کے پاس پیپسی جیسے مشروب ساز ادارے کی 19سال کی رفاقت ختم ہوگئی، ٹی وی رائٹس کی نئی ڈیل ہونی ہے، پاکستان سپر لیگ 2020ء ابھی مکمل نہیں ہوا،بڑھتے اخراجات اور آمدنی پر منڈلاتے گہرے سیاہ بادل کہیں پاکستان کرکٹ کو ہاکی نہ بنا دیں۔اس خدشے کا اظہار ٹیسٹ فاسٹ بولر اور لاہور قلندرز کے کوچ عاقب جاوید کر چکے ہیں ۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ 32لاکھ روپے ماہانہ لینے والے ہیڈ کوچ ، چیف سلیکٹر مصباح الحق کو فی الحال ہائی پرفارمنس سینٹر کی ذمہ داریاں بھی دے دی جائیں، ان کیساتھ 16ہزارایک سو ڈالر ماہانہ لینے والے بولنگ کوچ وقار یونس کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، کیوں کہ ابھی کون سی ٹیم کی مصروفیات ہیں ،یا یہ بھی نہیں کرتے تو ابھی حالات کے ساتھ ان تقرریوں کو تھوڑا آگے بھی لے جایا جا سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں