حمل میں سلاد کھانے سے’قبل از وقت پیدائش‘ کا خطرہ کم ہوتا ہے ؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نئی تحقیق کے مطابق حمل کے دوران غذائیت سے بھر پور کچی سبزیوں کا سلاد کی شکل میں استعمال کرنے سے قبل از وقت پیدائش ’پری میچیور برتھ‘ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔آسٹریلوی ’ یونیورسٹی آف کوئینس لینڈ ‘ کے ڈاکٹر دیریجے گیٹ ’اوبسٹیٹریشن اینڈ گائناکولوجسٹ ‘ کے مطابق حمل کے دوران سبزیوں کا استعمال لازمی کرنا چاہیئے ، کچی سبزیاں حمل دوست غذا تصور کی جاتی ہیں۔ڈاکٹر دیریجے گیٹ کی جانب سے کچی سبزیوں کے استعمال کی افادیت جانچنے کے لیے ایک تحقیق کی گئی جس میں تین ہزار پانچ سو خواتین نے حصہ لیا، ان خواتین کو حمل کے دوران چند سبزیاں باقاعدگی سے کھلائی گئیں جن میں گاجر، گوبھی، بروکولی ، بند گوبھی، لوکی، ہری پھلیاں اور آلو شامل تھے۔ڈاکٹر دیریجے گیٹ کے مطابق ’اگر حاملہ خواتین سلاد کا استعمال نہیں کرتیں اور حمل کے دوران بھی ایک مخصوص غذا کا استعمال جاری رکھتی ہیں، سپلینٹس’ کیمیکل‘ کے ذریعے اپنی غذائیت کی کمی کو پورا کرتی ہیں تو ان کے بچوں کے پٹھے صحیح طرح سے مضبوط نہیں بن پاتے جبکہ خواتین خود بھی کمزور اعصاب کا شکار رہتی ہیں، یہ سب ہی سبزیاں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی انفلامینٹری اجزا، وٹامنز اور منرلز سے بھر پور ہیں، ان کے استعمال سے بچے سمیت ماں کو بھی مضبوطی اور مکمل غذائیت ملتی ہے۔‘گیٹ کے مطابق حمل کے شروع کے مراحل ہی سے سبزیوں کا استعما ل کرنا چاہیئے، تحقیق میں یہ ماں اور بچے کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔دوسری جانب ماہر اطفال ڈاکٹر گیتا مشرا کا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں سے متعلق کہنا ہے کہ ’پری میچیور بیبی ‘ کا بچ جانا ایک معجزہ سمجھا جاتا ہے، اگر بچہ بچ جائے تو اسے پالنا ماں کے لیے ایک بہت مشکل ٹاسک ہوتا ہے جبکہ یہ بچہ زندگی بھر صحت کے مسائل سے دو چار رہتا ہے ۔پری میچیور بچوں کے پیدائش کے بعد قوت مدافعت نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ان میں دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت کمزور ہونا، سانس لینے میں دشواری، پھیپھڑوں کا صحیح سے نہ بن پانا، درجہ حرارت کا زیادہ ہونا شامل ہے جبکہ انہیں پیدائش کے ابتدائی دنوں میں دیکھ بھال کی نہایت اشد ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر گیتا مشرا کے مطابق ہر سال آسٹریلیا میں 37 ہفتوں سے قبل پیدا ہونے والے 8.5 فیصد بچے مر جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں