لاک ڈاؤن سے موٹاپے میں اضافہ

اسلام آباد(نیو ز ڈیسک)ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جاری لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں محدود رہنے والے افراد میں موٹاپے کی شکایات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔موٹاپے میں اضافے کی اہم وجہ کھانے کا زیادہ استعمال، ورزش میں کمی اور چلنا پھرنا بالکل ختم ہو جانا ہے۔پاکستان میں بچوں سمیت ساڑھے 4 کروڑ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، ماہرینطبی ماہرین کہتے ہیں کہ موٹے لوگوں کی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے جس کے باعث انہیں کورونا وائرس لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لہٰذا گھروں تک محدود رہنے کے ساتھ خوراک کا بہتر استعمال اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔لاک ڈاؤن کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور گھروں میں رہنے والے صرف کھانے اور سونے تک محدود ہو گئے ہیں۔معمولاتِ زندگی کی سرگرمیاں ترک ہوئیں تو شہریوں کی بڑی تعداد موٹاپے کا شکار ہونےلگی ہے۔طبی ماہرین کے پاس موٹاپے کے شکار لوگوں کی شکایات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔لاک ڈاؤن کے دنوں میں موٹاپے کا شکار ہونے کی وجہ گھروں میں غیر معمولی خوراک کا زیادہ استعمال، جسمانی مشقت اور ورزش میں کمی ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ شہریوں کو چکنائی، جنک فوڈ، بغیر بھوک کے کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ماہرِ نیوٹریشن رابعہ شکیل کہتی ہیں کہ شہریوں کو گھروں میں بہت صحت مند وقت مل رہا ہے، انہیں اس وقت کی طرح اپنی خوراک بھی صحت مند بنانی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ایسی خوراک کا استعمال کرنا ہے جو ان کی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت کو بڑھا سکے۔رابعہ شکیل نے زور دیا کہ ان دنوں لوگ سادہ خوراک جیسے دالیں، چنے، لیموں، سبز پتوں والی سبزیوں، پھلوں، مالٹے اور کیلے کا استعمال بڑھائیں، اس سے نہ صرف موٹاپا کم ہوگا جبکہ قوتِ مدفعت میں اضافہ ہو گا۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں خود کو تندرست بنانا ہے تو گھر میں ہلکی پھلکی ورزش، یوگا، بچوں کے ساتھ کھیل کود اور دیگر صحت مند سرگرمیاں ضرور اپنائے رکھیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں