کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے کیا ایک ویکسین کافی ہوگی؟

اسلام آباد(نیو زڈیسک)برطانوی دوا ساز کمپنی جی ایس کے کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ ویکسینز بنانی ہوں گی۔ادارے کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایما کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے خلاف ایک ویکسین کافی نہیں ہوگی اور زیادہ سے زیادہ اداروں کو مل کر اس کی ویکسینز تیار کرنی ہوں گی۔ان کے مطابق ان کا ادارہ بھی مختلف اداروں کے اشتراک سے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہا ہے لیکن یہ ایک طویل مرحلہ ہے۔ایما کا کہنا ہے کہ زیادہ ویکسینز کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ اس وائرس نے ایک عالمگیر طبی بحران پیدا کردیا ہے چانچہ دنیا بھر کی آبادی کے لیے ایک ویکسین کافی نہیں ہوگی۔اس وقت کرونا وائرس کی سب سے زیادہ ویکسینز چین میں تیار کی گئی ہیں جن کی تعداد 3 ہے، ان میں سے ایک اپنی آزمائش کے دوسرے مرحلے میں پہنچ گئی ہے جبکہ بقیہ دو کی آزمائش پہلے مرحلے میں ہے۔چین کی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ چین اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جو اب تک وائرس کے خلاف 3 ویکسینز تیار کرچکا ہے، پہلی ویکسین کی آزمائش دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور یہ اس اسٹیج تک پہنچنے والی دنیا کی پہلی ویکسین ہے۔ان کے مطابق اب تک دنیا میں تیار کی گئی تمام ویکسینز اپنے ٹرائل کے پہلے مرحلے میں ہیں۔خیال رہے کہ کرونا وائرس اب تک دنیا کے 20 لاکھ سے زائد انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے جبکہ وائرس سے اب تک 1 لاکھ 35 ہزار 229 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں