34

میراخواب مسلمانوں کی یکجہتی اور عروج

خود احتسابی ضروری ہے فرد اور قوم کے لیے . آج پوری دنیا میں مسلمان دو ارب سے زیادہ ہیں۔ ان کے معاشرتی حالات سیاسی نظام.= مقامی کلچر .رنگ اور نسل . جغرافیہ. غلامی سے آزادی کی تاریخ . الگ الگ ہیں۔ ان میں قدر مشترک ہے دین۔ دین اسلام۔ .ان میں بعض بے تحاشا خوشحال بھی ہیں اور بعض بے تحاشا غریب بھی۔ بعض تو خط غربت سے نیچے ہیں، .
سامراج اور اس کے پالیسی ساز ادارے عالم اسلام کو کسی صورت متحد نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ ایک ایجنڈے کے تحت عالم اسلام کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی باعث مسلمانوں میں اختلافات ہیں، اور عالم اسلام کے ممالک اور ان کے حکمرانوں میں اتحاد نہ ہونے کے برابر ہے
اسلام نے بلا تفریق مذہب وملت انسانی برادری کا وہ نقشہ کھینچا ہے جس پر سچائی سے عمل کیا جائے تو شر ور وفساد،ظلم و جبر اور بے پناہ انارکی سے بھری دنیاجنت کا منظر پیش کرنے لگے۔ محض انسانیت کی بنیاد پر تعلق و محبت کی جو مثال اسلام نے قائم کی ہے د نیا کی کسی تعلیم،کسی مذہب اور کسی مفکر کی وہاں تک رسائی نہیں. عالم اسلام اور عالم انسانیت میں مسلمان ایک ہاتھ کے مانند متحد ہیں جو کہ قرآن کی تعلیم اور حکم ہے اور ہم سب کو اسلام کی تبلیغ اور ترویج میں جڑےہیں ۔
عالم اسلام آج بھی فرقہ واریت، برادری ازم، عرب و عجم کی تفریق کا شکار ہے۔ غیر مسلموں کی سازشوں کی وجہ سے تقسیم در تقسیم ہورہا ہے۔
لیکن آج ہم ذلت و رسوائی کی چکی میں پس رہے ہیں. ہر طرف سے ہمیں خطرات و خدشات نے گھیرا ہوا ہے.دشمن نے مسلمانوں میں اتحاد کو نشانہ بنا رکھا ہے.قرآن کی روح بخش تعلیمات اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر عمل کی روشنی میں امت اسلامی میں حقیقی اتحاد و یکجہتی ممکن ہے۔اسلام ایک ہے، اسلام ناقابل تقسیم ہے، اسلام میں وہابی، شیعہ ، سنی وغیر ہ کے الگ الگ وجود کا کوئی جواز نہیں ہے.
مسلمانوں کے دورِ اول میں اُن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ایک واضح اور اعلیٰ مقصد کا شعور تھا.امت اسلامی کو چاہئے کہ نہایت ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ دشمن کی سازشوں پر نظر رکھیں اور تفرقہ بازی کی ہر حرکت پر کڑی نظر بنائے رکھیں اور اسے ناکام بنا دیں۔
آج ہم اگر اپنی شاندار ماضی پر فخر کرتے ہیں تو اس میں ہم حق بجانب ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے آج ہمارے نوجوان اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں اسلام کا عالمی تصور نوجوانوں کے ذہن سے مٹ چکا ہے اسلام کو ایک خاص قوم کے لیے تصور کرلیا گیا ہے۔
آپس میں محبت،اخوت، بھائی چارہ، ایمان واتحاداور یقین مسلمانوں کا موٹو ہونا تھا مگر اختلاف ہی کی وجہ سے قوموں اور ملکوں کو بڑے بڑے نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ اختلاف ہی کی وجہ سے مسلمان ممالک پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ غربت، مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت، بے روز گاری، جہالت، انتقام، لوٹ مار، ڈاکے، اغوا، قتل و غارت جیسے موذی امراض مسلمانوں میں باہمی اختلافات ہی کا نتیجہ ہیں۔ آج جہاں امت مسلمہ کے مسلمانوں میں مثالی اتفاق و اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے وہاں ہمارے معاشرے اور حلقہ احباب میں انسانی یکجہتی کی شدید ضرورت ہے
علامہ اقبال کو مفکر اسلام کے نام سے یاد کیاجاتا ہے انہوں نے اسلام اور مسلمان کو اپنی شاعری اور فلسفے کا موضوع بنایا۔ اقبال مسلمانوں کے زوال سے بہت متفکر تھے ۔ انکی دلی خواہش تھی کہ مسلمان ایک بار پھر دنیا کی عظیم قوم بن جائیں۔ آخری عمر میں وہ بڑی بے تابی کے ساتھ مسلمانوں کو متحد ہونے کا پیغام دیتے رہے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
تحریر :ثناء مسعود ایم اےماس کمیونیکیشن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں