0

ایک صدی بعد برطانوی معیشت کا بدترین سال

اسلام آباد(نیو زڈیسک) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ ایک صدی بعد برطانوی معیشت کے لیے یہ سب سے بد ترین سال ثابت ہوگا۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے برطانوی معیشت میں رواں سال 6.5 فی صد خسارے کی پیش گوئی کر دی ہے، مالیاتی ادارے نے کہا کہ 1921 کے بعد برطانوی معیشت کے لیے یہ سال سب سے بد ترین ہوگا، ملک میں کساد بازاری میں بھی اضافہ ہوگا۔دریں اثنا، آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کی ایک سنگین تصویر پیش کر دی ہے، کرونا وائرس کی عالم گیر وبا سے پیدا ہونے والی ایک ایسی صورت حال جس کے برے اثرات ایک عشرہ قبل آنے والے عظیم معاشی بحران سے بھی زیادہ گہرے ہوں گے۔آئی ایم ایف نے 25 کرونا متاثرہ ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کر دیاآئی ایم ایف نے دنیا کے تمام ممالک کے لیے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال عالمی معیشت میں 3 فی صد خسارے کا خدشہ ہے، یورپی ممالک میں یہ خسارہ برطانیہ کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہوگا، یورپی ممالک میں اٹلی اور اسپین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث دنیا کے تمام ممالک کی معیشت سست روی کا شکار ہے، اٹلی کی معیشت میں 9.1 فی صد جب کہ اسپین میں 8 فی صد خسارے کا خدشہ ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے کرونا وائرس کی وبا سے متاثرہ 25 ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ ایم ڈی کرسٹلینا جارجیوا نے بتایا تھا کہ تقریباً 215 ملین ڈالر اگلے 6 ماہ کے عرصے میں 25 ممالک کے لیے عطیے کے طور پر استعمال کیے جائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں