نئے عہد میں حقیقی تعاون، چین روس تعلقات میں نئی قوت کا باعث ہو گا، سی آر آئی کا تبصرہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے سولہ سے اٹھارہ ستمبر تک روس کا سرکاری دورہ کیا۔ روس میں قیام کے دوران لی کھہ چھیانگ نے روسی وزیر اعظم دیمیتری میدودیو کے ساتھ چین- روس وزرائے اعظم کی بات چیت کے چوبیسویں دور میں شرکت کی۔

ملاقات میں فریقین نے تعاون کی سمت کا تعین کیا، تعاون کی دس سے زائد دستاویزات پر دستخط کیے اور اگلے مرحلے میں تعاون کے نئے اقدامات کی وضاحت کی۔ اس طرح چین اور روس کے درمیان حقیقی تعاون کو یقیناً فروغ ملے گا اور نئے عہد میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی قوت فراہم کی جائے گی۔

رواں سال جون میں چینی صدر مملکت شی چن پھنگ نے روس کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ پچھلے سال چین اور روس کے درمیان تجارتی حجم پہلی مرتبہ ایک کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ چین مسلسل نو سال تک روس کا پہلا تجارتی ساتھی رہا۔ روسی وزیر اعظم نے موجودہ ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کا یہی منصوبہ ہے کہ دو ہزار چوبیس سے قبل دو طرفہ تجارتی مالیت دو کھرب تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی۔

چین اور روس دونوں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں۔ ایک دوسرے کے سب سے بڑے ہمسایہ ممالک ہیں۔ ان دونوں ممالک کے بہتر تعلقات عالمی امن و استحکام اور پوری دنیا کی خوشحالی کے لئے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ چین اور روس معیشت کی عالمگیریت اور آزاد تجارت نیز اقوام متحدہ کے اختیارات کا تحفظ کرتے ہیں لہذا یہ امر یقینی ہے کہ نئے عہد میں چین اور روس کے مابین تعاون مزید آگے بڑھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں