فکسرز کیلیے نو انٹری کا بورڈ لگانے کی آوازیں بلند

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فکسرز کیلیے نو انٹری کا بورڈ لگانے کی آوازیں بلند ہونے لگیں، رمیز راجہ نے سزایافتہ کرکٹرز کی واپسی کو زہر قاتل قرار دے دیا۔گزشتہ دنوں سابق کپتان جاوید میانداد نے فکسرز کو پھانسی پر چڑھا دینے کا مطالبہ کیا تھا، اب رمیز راجہ نے بھی اس حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، شرجیل خان کی قومی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے اپنے یوٹیوب چینل پر رمیز راجہ نے کہا کہ ماضی میں فکسنگ کی کئی خوفناک مثالیں ہونے کے باوجود پی سی بی کی مینجمنٹ نے درست رویہ اختیار نہیں کیا، عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کئی فکسنگ کے معاملات سامنے آئے، یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا، اگر آپ کسی بڑے سٹے باز پلیئر کو ٹیم کے لیے ناگزیر سمجھ کر ان 150 کرکٹرز میں شامل کر دیں جو پوری ایمانداری سے کھیلتے ہیں تو اس سے دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بڑا نام ہو تو اس کے مارجن بھی زیادہ ہوتے ہیں، رعایت کی گنجائش پیدا کرلی جاتی ہے، اگر کوئی فقیر ٹائپ ہو تو اس کی چھٹی کرا دیتے ہیں کہ اس نے شور مچایا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ان فیصلوں میں بورڈ کے بڑے بھی شامل رہے ہیں، متبادل ٹیلنٹ کا پول تیار کریں تو پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، معاشرہ بھی جلد ہی ماضی کو بھلا دیتا ہے، فکسرز کو قبول کرلیا جاتا ہے،کمنٹری کرتے ہوئے میرا دل تڑپتا ہے جب میچ کے دوران مجھے بھی ان کی تعریف کرنا پڑجاتی ہے۔رمیز راجہ نے کہا کہ انگلینڈ میں 90 کی دہائی میں چھوٹی موٹی غلطی کرنے والے بھی دوبارہ کہیں نظر نہیں آئے، گذشتہ 25 یا 30 سال سے پاکستان کا نام خراب ہوا ہے پھر بھی ہم نہیں سنبھلے تو مسائل میں کمی کیسے آئے گی، میں ہمیشہ سے ہی زیرو ٹولیرنس کا زبردست حامی رہا ہوں، محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی پر سخت کوفت ہوئی، ہمیں کہنا تو یہ چاہیے کہ فکسنگ کے معاملے میں کوئی رعایت کا مستحق نہیں،آپ نے غلطی کی ہے تو اب پرچون کی دکان کھول لیں، کرکٹ میں نہیں آنے دینگے، انگلینڈ میں سزا یافتہ کرکٹرز پاکستان میں ماہرانہ تجزیے کررہے ہیں،یہ لوگ اصولوں کی بات کریں تو میرا خون کھولتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر پی سی بی چند پلیئرز کو معاف کر دیتا ہے تو شرجیل خان سمیت دیگر واپسی کے لیے لائن میں کھڑے کیوں نہیں ہوں گے؟سابق کرکٹرز کا بھی یہ قصور ہے کہ وہ بھی پی سی بی پر دباؤ نہیں بڑھاتے، مجھے فیصلوں کا اختیار ہو تو کسی فکسر کو قومی ٹیم میں واپس آنے کا راستہ نہ دوں۔سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی درست سمت متعین نہیں ہوسکی، ملک میں ایک دہائی کے قریب عرصے تک انٹرنیشنل مقابلے نہ ہونے کا نقصان اپنی جگہ مگر پی سی بی حکام یہی طے نہیں کرپائے کہ سینئرز کو کھلانا ہے یا نہیں، تذبذب میں آگے تو کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، مستقبل کے بجائے وقتی نتائج حاصل کرنے کے لیے سلیکشن میں فیصلے کیے جاتے ہیں،اچھے بیٹسمینوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔رمیز راجہ نے کہا کہ پی ایس ایل5 میں سیدھے بیٹ سے کھیلنے والے 3 یا 4 پلیئرز ہی نظر آئے ہیں، البتہ فاسٹ بولرز کی کھیپ اچھی ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ان کھلاڑیوں کو میچ ونر بنانے کے لیے ٹھوس پلاننگ کی ضرورت ہے مگر ہم سینئرز کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں، 37 اور 38 سال کے کرکٹرز کے ساتھ میگا ایونٹ نہیں جیت سکتے، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جدید سوچ کا تقاضا کرتی ہے لیکن پی سی بی نے مصباح الحق کو ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ اور چیف سلیکٹر کی تہری ذمہ داری سونپ دی، ہارنے سے ڈرنے والی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصباح الحق ایماندار ہیں لیکن آج کی کرکٹ کسی اور ہی انداز میں چل رہی ہے، جب تک سوچ اور معاملات میں جدت نہیں لائی جاتی صورتحال میں زیادہ تبدیلیاں آنے کا امکان نہیں۔رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان کا فرسٹ کلاس کرکٹ سسٹم کمزور ہے، صرف پی ایس ایل سے سپراسٹارز پیدا نہیں کیے جا سکتے، نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں وقت لگے گا، اسپانسرز اور وسائل تلاش کرنے جیسے اہم مسائل درپیش ہیں، امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژنکے مطابق کام کرتے ہوئے آنے والے وقتوں میں اس نئے سسٹم میں بہتری نظر آئے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں