0

نائٹرک آکسائیڈ گیس سے کورونا وائرس کا علاج، عالمی طبّی آزمائشیں جاری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ناول کورونا وائرس سے شدید متاثرین کے علاج میں نائٹرک آکسائیڈ گیس (NO) استعمال کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں طبّی آزمائشیں جاری ہیں کیونکہ ماہرین کو اُمید ہے کہ یہ گیس اس وائرس سے ہونے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کے خلاف انسانی جسم میں مدافعت پیدا کرنے کے علاوہ متاثرہ پھیپھڑوں کو صحت یاب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ اس وقت ہمارے پاس ناول کورونا وائرس کی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کی کوئی ویکسین یا دوا موجود نہیں۔ اس لیے عالمی ماہرین مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس بیماری کا علاج کرنے یا اس کے اثرات زائل کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔اس ضمن میں اب تک جہاں ’’کووِڈ 19‘‘ سے صحت یاب ہوجانے والوں کا خوناب (بلڈ پلازما) استعمال کرتے ہوئے شدید متاثرین کے علاج میں تجرباتی طور پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہیں (خلیوں پر کیے گئے تجربات کے دوران) طفیلیوں کی عام دوا نے بھی کورونا وائرس کا خاتمہ کیا ہے۔نائٹرک آکسائیڈ گیس کے بارے میں یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ یہ پھیپھڑوں میں نائٹروجن کی مقدار بڑھاتے ہوئے نہ صرف خون کا بہاؤ بہتر بناتی ہے بلکہ پھیپھڑوں میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔ اپنی اسی خاصیت کی بناء پر یہ گیس برسوں سے ان مریضوں کو (ناک کے راستے) دی جاتی رہی ہے جن کے پھیپھڑے شدید متاثر ہوں اور جنہیں سانس لینے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہو۔البتہ، متاثرہ فرد کو بذریعہ سلنڈر دی جانے والی ہوا میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار 40 حصے فی دس لاکھ (40 پی پی ایم) کے لگ بھگ رکھی جاتی ہے، کیونکہ زیادہ مقدار میں یہ گیس نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔2003 میں جب ایک اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی، سانس کی بیماری ’’سارس‘‘ (SARS) نے وبائی شکل اختیار کی تھی تو نائٹرک آکسائیڈ گیس کے استعمال سے شدید بیمار مریضوں کو بہت افاقہ ہوا تھا، جبکہ ان کے قدرتی مدافعتی نظام میں بھی ’’سارس‘‘ کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کے خلاف مدافعت بھی بڑھی تھی۔ناول کورونا وائرس بھی چونکہ ’’سارس‘‘ وائرس سے ملتا جلتا ہے، اس لیے ماہرین کو اُمید ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ کا استعمال ’’کووِڈ 19‘‘ کا قلع قمع کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کی ماتحت ویب سائٹ ’’کلینیکل ٹرائلز‘‘ کے مطابق، چین کے شنجنگ ہاسپٹل کی اسپانسرشپ سے یہ طبّی آزمائشیں گزشتہ ماہ شروع ہوچکی ہیں، جن میں شمولیت کے حوالے سے برمنگھم یونیورسٹی ایٹ الاباما (UAB) نے دو روز پہلے ہی پریس ریلیز جاری کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں