0

علی ظفر نے نئی غزل ’سُکون‘ کا لنک شیئر کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)معروف گلوکار علی ظفر نے کورونا وائرس کی اِس مشکل گھڑی میں قرنطینہ میں رہتے ہوئے اُردو کی ایک غزل پڑھ لی جس کا عنوان’سُکون‘ ہے۔گزشتہ روز پاکستان کے معروف گلوکار علی ظفر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پرایک ٹوئٹ کیا جس میں اُنہوں نے اپنی نئی غزل ’سُکون‘ کی یوٹیوب لنک شیئر کی۔علی ظفر نے ٹوئٹر پر اپنی نئی غزل’سُکون‘ کا ویڈیو لنک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اِس مشکل وقت میں جہاں بہت ساری چیزیں رُک گئی ہیں وہیں ہماری تخلیقی صلاحیتیں کسی نہ کسی بہانے سے کچھ نیا کرنے کا انتظام کرہی لیتی ہیں۔‘گلوکار نے لکھا کہ ’میں نے قرنطینہ میں رہتے ہوئے یہ کچھ اشعار لکھے ہیں۔‘علی ظفر نے اپنی نئی غزل’سُکون‘ کچھ اِس طرح پڑھی:
یہ میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
خاموشی میں چُھپا جنوں سا کیا ہے؟
باہر اِک طوفاں ہے برپا اور اندر سناٹا
سوچتا ہوں یہ کیوں ہے کیا ہے؟
یہ میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
خود سے آشنا تو پہلے بھی تھا
شائد یہ خودی سے شناسائی کا سلسلہ ہے
اکیلا تو پہلے بھی تھا لیکن
اِس تنہائی میں اِک سُرور سا کیا ہے؟
یہ کیا معجزہ ہے؟
کہ میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
اپنے مکاں میں بند ہو کر
میں لامکاں ہوچکا ہوں
اپنی گرہیں کھولتے کھولتے
خود پہ عیاں ہوچکا ہوں
پر یہ راز راز رکھنے میں بھلا ہے
کہ میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
ہر لمحے میں اِک فسانہ ہے موجود
میرے اپنوں میں اِک بیگانہ ہے موجود
جو میری داستاں مجھے سُنا رہا ہے
جو دیکھ سکا نہ میں وہ دِکھا رہا ہے
میں شور و غل کا ہوں باسی
یہ میری اِک سزا ہے
مگر یہ میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
کوئی فاصلہ باقی نہ رہا
جام تو ہے ساقی نہ رہا
میرا تخیل اب سراپا احتجاج نہیں
میرا ہُنر اب کسی تخلیق کا محتاج نہیں
میرا قلم ہر جانب واویلا مچا رہا ہے
پر میرے ہر سُو اِک سُکوں سا کیا ہے؟
میری دُنیا اب بدل چُکی ہے
اِس میں میرا اب وجود کیا ہے؟
جو تھا وہ گُزر گیا
اب جو ہے وہ موجود کیا ہے؟
سِتم جو ڈھایا تُو نے
جِگر کو چیرتا چلا گیا
اب میرے قلب میں یہ سُکوں سا کیا ہے؟
قرار اگر ہے تُو فطور کیا ہے؟
محبت اگر ہے تو غرور کیا ہے؟
ٹُھکرایا گیا تو کیا
پایا گیا تو کیا
چُھپا ہے گَر تاریکی میں تو
تیرا نور کیا ہے؟َ
تجھے پانے والے تو اپنا آپ کھو بیٹھتے ہیں
پر اپنے ہی آپ میں مجھے یہ سُکوں سا کیا ہے؟
میری حقیقت میرے جانے کے
بعد سمجھ جاؤ گے تُم
اُمید کرتا ہوں اپنے ہی لیے
سنور جاؤ گے تُم
بعد میں پچھتانے والے ہزار بار بکھرتے ہیں
سمیٹے نہ سمٹے ہاتھوں سے پھسلتے ہیں
اگر مجھے جان پاؤ تو یہ بھی جان لینا
کہ میں کون ہوں؟
اور میرے ہر سُو یہ سُکوں سا کیا ہے؟
علی ظفر نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں اپنی غزل کے شروع کے چار بند کی تصاویر شیئر کیں۔جنہیں اردو پڑھنے کا شوق ہے۔ پہلے چار بند۔اُنہوں نے ٹوئٹرپر یہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جن کو اُردو پڑھنے کا شوق ہے میری غزل کے چار بند اُن کے لیے۔‘اِس کے علاوہ گلوکار نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں اپنی غزل کے آخری چار بند کی تصاویر بھی شیئر کیں۔جنہیں اردو پڑھنے کا شوق ہے۔ پہلے چار بند۔اور آخری چار بندواضح رہے کہ علی ظفر نے اپنی غزل’سُکون‘ 14 گھنٹے قبل ہی اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی ہے اور اب تک اِس غزل کو 16 ہزار سے زائد افراد دیکھ چُکے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں