سعودی عرب نے امریکا، کینیڈا اور برازیل کو اپنے کونسے بڑے پلان میں شمولیت کی دعوت دے دی ؟ جانئے

ریاض(ویب ڈیسک)سعودی وزیر توانائی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور برازیل جیسے ممالک “اوپیک پلس” گروپ کی ان کوششوں میں شامل ہو جائیں گے جو وہ تیل کی منڈی میں استحکام لانے کے واسطے کر رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزیر تیل شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نےمیڈیا کو بتایا کہ تیل کی عالمی یومیہ پیداوار میں ایک کروڑ بیرل کی کمی کے حوالے سے گذشتہ روز طے پانے والا “اوپیک پلس” گروپ کا حتمی سمجھوتا، اس بات پر موقوف ہے کہ میکسیکو پیداوار کم کرنے کے عمل میں شامل ہو۔ سعودی وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ میکسیکو اس معاہدے میں اپنے فوائد نہیں بلکہ پوری دنیا کا مفاد سامنے رکھے گا۔اوپیک تنظیم اور تیل پیدا کرنے والے ممالک (ان دونوں کے اتحاد کو اوپیک پلس کا نام دیا گیا ہے) اس بات پر متفق ہو گئے کہ مئی اور جون میں تیل کی یومیہ پیداوار میں ایک کروڑ بیرل کی کمی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد کرونا وائرس کے بحران کے سبب گر جانے والی قیمتوں کو بڑھانا ہے۔ بعد ازاں جولائی اور دسمبر کے درمیان یومیہ پیداوار کی کمی 80 لاکھ بیرل کر دی جائے گی۔ اگلے سال یعنی جنوری 2021 سے اپریل 2022 کے درمیان اس یومیہ پیداوار کی کمی کو 60 لاکھ بیرل کر دیا جائے گا۔اوپیک پلس کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کی منڈی کا جائزہ لینے کے لیے دس جون کو ایک اور ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں