0

پمزاسپتال میں کورونا مریض کو عام وارڈ میں رکھنے کا انکشاف

اسلام آباد(نیو زڈیسک)پمزمیں کورونامریض کوعام وارڈمیں رکھنےکاانکشاف سامنے آیا، مریض میں بعدازمرگ کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے پمزاسپتال میں کورونامریض کوعام وارڈمیں رکھنےکاانکشاف ہوا، لوکیمیاکے بتیس سالہ مریض کوچاراپریل کوپمزمنتقل کیاگیا تھا۔ذرائع کے مطابق مریض کا تعلق اسلام آباد کے نواحی علاقے سے تھا،ڈاکٹرز نے معائنہ میں شک ہونے پر مریض کو آئسولیشن وارڈمنتقل کیا اور سیمپل لیکر مریض کومیڈیکل وارڈ6 واپس بھجوا دیا، جہاں مریض تین دن رہنے کے بعد گزشتہ روز انتقال کر گیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق این آئی ایچ سےمریض کی کورونارپورٹ بعدازمرگ موصول ہوئی، 32 سالہ مریض میں بعد از مرگ کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ، اس سے پہلے مریض کےلواحقین حفاظتی انتظامات کے بغیر میت گھر لے گئے۔انچارج کوروناسیل پمز ڈاکٹرنسیم نے بتایا کہ اسلام آبادمیں20مریض مقامی منتقلی سےمتاثرہ ہیں اور زیرعلاج کورونا مریضوں میں زیادہ تعدادمردوں کی ہے، مریضوں کی عمریں20سے39سال کےدرمیان ہیں۔ڈاکٹرنسیم کا کہنا تھا کہ اسلام آبادمیں انتقال کرجانےوالےمریضوں کوپھپھڑوں کےمسائل تھے، ہمیں لگتاہےبیرون ملک سے آنے والے افراد کورونا متاثرہ ہوسکتے ہیں۔انچارج کوروناسیل پمز نے کہا کہ پاکستان میں کوروناوائرس کےمریضوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے، یورپی ممالک کی نسبت پاکستان میں کوروناوائرس پھیلنےکی رفتارکم ہے، لوگ گھروں تک محدودرہیں توامیدہےجلدکوروناسےچھٹکاراپالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اورسماجی فاصلےنہ ہوتےتوپاکستان میں تعدادبہت زیادہ ہوتی، لوگوں نےسماجی فاصلوں کو سنجیدہ نہیں لیا تو تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے، ہم نے کوشش کرنی ہےعلامات کی صورت میں فوری ٹیسٹ لیں، فوری ٹیسٹ کی صورت میں کورونامریض آتاہےتوآئسولیشن بہترین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں