کوروناوائرس،دنیا کے سوا ارب افرادکے روزگار ختم ہونے کا خدشہ لیکن پاکستان میں کتنے افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں؟ انتہائی پریشان کن خبرآگئی

کراچی(نیوز ڈیسک)کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سوا ارب لوگوں کے روزگار کو خطرہ ہے تاہم پاکستان میں بھی یہ موذی مرض ایک کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کے سلسلے کو روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منصوبہ بندی کی وزارت کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کروڑ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ملک میں ایک خوفناک معاشی منظر نامہ جنم لے رہا ہے۔ان کے تجزیے کے مطابق اگر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حالات مزید خراب ہوتے ہیں اور حکومت موجودہ حکمت عملی پر کاربند رہتی ہے تو محتاط اندازے کے مطابق تیس سے پچاس لاکھ افراد کا روزگار داؤ پر لگ سکتا ہے۔اگر لاک ڈاؤن کی مدت بڑھتی ہے اور اسے تین مہینے تک بڑھایا گیا تو یہ ایک کروڑ افراد کی ملازمتوں کو خطروں سے دوچار کر سکتا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر پاشا کے مطابق کورونا وائرس کا پیدا کردہ معاشی بحران ملک میں تین شعبوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے جن میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان میں بڑی اور درمیانی صنعتیں، ہول سیل و ریٹیل کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے شعبے شامل ہیںبی بی سی کے مطابق معاشی امور کے ماہر خرم شہزاد کی کورونا وائرس کے پیدا کردہ معاشی بحران پر تجزیاتی رپورٹ نشاندھی کرتی ہے کہ لاک ڈاؤن کے طویل ہونے سے معاشی سرگرمی کے نہ ہونے یا کم ہونے سے ایک کروڑ سے زائد افراد کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیںخیال رہے اس سے قبل مزدوروں کی عالمی تنظیم آئی ایل او نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کم از کم ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روز گار کو خطرہ لاحق ہے۔گزشتہ روز جاری ہونے والی وبا سے متعلق آئی ایل او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کا روز گار خطرے میں ہے وہ ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جنہیں اس وبا کے باعث بندش یا دیگر خطرات لاحق ہیں۔حتی کہ گذشتہ تین ماہ کے عرصے میں دنیا بھر میں کام کے اوقات میں سات فیصد تک کمی کر دی ہے۔ جو کم از کم 19 کروڑ 50 لاکھ کل وقتی ملازمین کے برابر ہے۔آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے ریڈر کا کہنا تھا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں ہی کاروبار اور ملازمین اس سے متاثر ہوں گے۔ تاہم ایسے لوگ جو غیر محفوظ کام کرتے ہیں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں انہیں اس سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔خیال رہے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 79 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے دوسری رات انتہائی نگہداشت یونٹ میں گذاری جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔چین کے شہر ووہان میں 11 ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔فرانس میں بھی وبا کے آغاز کے بعد سے ہلاکتیں 10 ہزار تک پہنچ گئی ہیں جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 607 افراد ہلاک ہوئے۔آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے ریڈر کا کہنا تھا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں ہی کاروبار اور ملازمین اس سے متاثر ہوں گے۔ تاہم ایسے لوگ جو غیر محفوظ کام کرتے ہیں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں انہیں اس سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں