مٹ جائے گی مخلوق تو ۔۔۔۔۔

کیا یہ وہ مسلم امہ جس کے بارے میں ہمارے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو ساراجسم درد میں مبتلا ہو جا تاہے ۔ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر عرصہ ء درازسے زندگی تنگ کر دی گئی ہے ، وادی کو ایک بہت بڑے عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، کشمیری عورتوں کا ریپ بھارتی فوجیوں کا ہتھیار بن چکا ہے ۔نوجوان لڑکیوں کو رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جا تا ہے ، ہماری عزت مآب بہنوں کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں اور ہمارے مسلم حکمران غفلت کی نیند کے نہ صرف مزے لے رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیر اعظم مودی کو انعامات سے نواز رہے ہیں۔کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا میں 65 سے زائد اسلامی ریاستیں ہیں جن میں امیر و کبیر ریاستیں بھی شامل ہیں جن کی دولت کے بل بوتے پر یہود و ہنود نے دنیا کو مسلمانوں کے لئے جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔لیکن مسلمانوں میں کمی ہے جذبہ ایمانی کی ، اور وہ جذبہ ایمانی جب طارق بن زیاد جیسے لوگوں میں بیدار ہوتا ہے تو اس کی ہیبت و دہشت سے شاہ اندلس خودکشی کر لیتا ہے ، وہی جذبہ ایمانی محمد بن قاسم میں جاگتا ہے تو ظالم اور فاسق راجہ داہر کو شکست فاش ہوتی ہے۔اگر آج خلیجی ریاستوں کے سربراہوں کی رگوں میں وہی جذبہ ایمانی ہے اور رگوں میں غیرت کا خون دوڑتا ہے تو پھر انکو کشمیر میں سسکتی ، بلکتی اور دم ٹوڑتی انسانیت نظر کیوں نہیں آتی ۔ ہمارے عظیم سابق سپہ سالار ،دو نشان حیدر پانے والے شہداءکے وارث 34 اسلامی ممالک کی اتحادی فوج کے سربراہ کا جذبہ ایمانی کیوں ماند پڑ گیا ہے۔یہ فوج تو بنائی ہی مسلمانوں کی حفاظت کے لئے گئی تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ ہم جنگ کے خواہش مند نہیں بلکہ امن پسند قوم ہیں لیکن کیا اس امن کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کٹتے ہوئے دیکھتے رہیں ۔انہیں کشت وخون میں نہلایا جاتا رہے اور ہم امن کا راگ الاپتے رہے۔ہمارے ملک کے حالات اتنے بھی مخدوش نہیں ہیں ، جتنے مدینہ کے حضور کے وصال کے بعد تھے ، لیکن اس کے باوجود خلیفہ اول سیدنا ابوبکر نےباطل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔پاک فوج کے سپہ سالار جنر ل حمید گل کہتے تھے کہ کہ ہم جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پھر چین وعرب ہمارا ، ساراہندوستا ن ہمارا ہو گا۔مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے بدترین مظالم پر بھارتی اخبار ت بھی خاموش نہیں رہے ۔ اخبار دی ہندو نے بھارتی وادی کی صورتحال خوفناک قراردیدی ۔دی ہندو نے اپنے اداریے میں لکھا کہ یہ تصور کرنا کہ ا یک کھلا معاشرہ، ایک آزاد میڈیا کسی بھی طرح قومی سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، آمریت کی توجیہہ سے کم نہیں،ایڈیٹوریل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بھارت کو صحافت میں تشویشناک حد تک معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ریاست مدینہ کا دعوی کرنیوالے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کبھی احتجاج کے طور پر پوری قوم کو کھڑا کر دیتے ہیں ،تو کبھی احتجاج کی کال دیتے ہیں۔ابھی دو دن پہلے مظفر آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے دنیا بھر میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ نریندر مودی ایک بزدل انسان ہے کیونکہ صرف ایک بزدل انسان ہی معصوم لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔ جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ظلم نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے خبردار کیا کہ جب ظلم بڑھتا ہے تو مزاحمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ بھارتی مظالم لوگوں کو انتہاپسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت کے بقول یہ ایٹم بم ہم نے شب بارات پر چلانے کےلئے نہیں رکھا ہوا ہے۔
5 اگست سے ابتک کشمیر میں لاتعداد انسانوں کا قتل عام کیا جا چکا ہے،اس دوران شہید ہونے والے کشمیریوں میں نوجوان ہی نہیں بچے ، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں لیکن مکمل میڈیا شٹ ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کے اعداد و شمار منظر عام پر نہیں آ رہے۔اخباردی انڈی پینڈینٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کشمیر میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تو شہریوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنا کیوں بند کر دیئے گئے ہیں؟۔ کشمیر کا محاصرہ جاری ہے ٹیلی فون رابطہ دنیا سے منقطع ہے خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ جاری ہے کرفیو چل رہا ہے پورا علاقہ ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ سڑکیں بند ہیں ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ انڈیا کے بدنام زمانہ جاسوس جو آجکل نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں وہ کئی دنوں سے کشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کشمیری احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں سنگین خلاف ورزیوں پر چیخ رہی ہیں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کشمیر کو جہنم قرار دیا مگر پھر بھی دنیا خاموش ہے۔ بھارتی فوج نے درندوں کوبھی پیچھے چھوڑ دیاہے4 کشمیریوں کوفوجی کیمپ بلا کرمارا پیٹا گیا ،تشدد کے دوران مائیک رکھ کرچیخیں پورے علاقے کوسنوائی گئیں ، دہشت پھیلانے کے لیے بھارتی فوج نے شیطان کوبھی شرمادیا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اسرائیلی طرز کی جنگی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے۔ پورے مقبوضہ کشمیر کو کھنڈر بنایا جارہا ہے۔ مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے کشمیریوں کی نوجوان نسل اپاہج، نابینا اور ذہنی و جسمانی معذور ہورہی ہے۔ یہ سب منظم سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔ کشمیرمیں بھارتی فوج کی تازہ بربریت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ کشمیرکی نوجوان نسل کی بینائی چھینی جارہی ہے ۔سری نگرکے اسپتال ایسے زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں کہ پیلٹ گن کے استعمال سے جن کی آنکھوں کی بینائی چھین گئی۔کیا عالمی اداروں، اقوام عالم،اور اقوام متحدہ سمیت تمام با اختیاراداروں کے لئے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ ایک سوالیہ نشان نہیں ہے۔ اور اب کشمیر کی آزادی کے بڑے بڑے دعویدارکشمیر کو انسانی حقوق کا قبرستان کہنے پر مجبور ہیں۔ وہ خطہ ارضی جس کو جنت نظیرکہا جاتا ہے اس کو اب انسانی حقوق کا قبرستان سمجھ لیا ہے ، اور یہ انسانیت کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں