عوام نمازیں گھروں پر ادا کریں، اسلامی نظریاتی کونسل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر عوام نمازیں گھروں پر ادا کریں گے تاکہ میل جول میں فاصلوں کو یقینی بنایا جاسکے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں کمی سے متعلق حکومتی اقدامات کی تعمیل کی جائے۔انہو ںنے یہ بھی کہا ہے کہ مساجد کی تالہ بندی اور بندش کا تاثر نہیں جانا چاہیے، آئمہ مساجد کی گرفتاریوں کی بجائے ان کا تعاون حاصل کیا جائے۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پیشِ نظر ملک بھر کی مساجد میں نمازِ جمعہ سمیت تمام نمازوں میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کر دیا گیا ہے۔آج جمعۃ المبارک ہے اور لاک ڈاؤن کے بعد سے یہ دوسرا جمعہ ہے، سندھ حکومت کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھر میں آج دوپہر 12 تا ساڑھے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے آج دوپہر 12 تا ساڑھے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کے سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران نمازِ جمعہ کے اجتماعات کو محدود رکھا جائے گا اور مساجد میں زیادہ سے زیادہ 5 افراد نماز جمعہ ادا کرسکیں گے، باقی لوگوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ساڑھے 3 گھنٹے کے لاک ڈاؤن میں کراچی سمیت سندھ بھر کی تمام مارکیٹس، دکانیں، اسٹورز، کھانے پینے کے ٹھیلے بند رہیں گے اور ہر قسم کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔اس دوران ٹریفک کی روانی بھی بند رہے گی اور خلاف وزری پر کارروائی کی جائے گی جبکہ کریانہ اور میڈیکل اسٹورز صبح 8 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک اور ساڑھے 3 بجے سے ساڑھے 6 بجے تک کھولے جاسکیں گے۔محکمۂ داخلہ سندھ نے 14 اپریل تک شاپنگ مالز، سنیما گھر، شادی ہالز، بینکوئٹ، آڈیٹوریم، فارم ہاؤسز، ساحلی مقامات، الیکٹرونکس مارکیٹ اور سماجی تقاریب پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔مقررہ مدت تک شورومز، بیوٹی پارلر سمیت تفریحی مقامات، انٹرسٹی اور انٹر پراوینس پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی جبکہ تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں