0

ملزمان کی ضمانت ہوتے ہی کراچی میں ڈکیتیاں شروع ہو گئیں: چیف جسٹس

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ملزمان کی ضمانت ہوتے ہی کراچی میں ڈکیتیاں شروع ہو گئیں،کراچی میں ڈیفنس کا علاقہ ڈاکوؤں کے کنٹرول میں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی کسی بادشاہ نے شاہی فرمان جاری کیا، ملک میں جو بھی کام کرنا ہے قانون کے مطابق کرنا ہو گا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی خود کو بادشاہ سمجھ کر حکم جاری کرے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت ملزمان اور مجرموں کو ایسے رہا کیا جا سکتا ہے؟ ملزمان کو پکڑنا پہلے ہی ملک میں مشکل کام ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا، پولیس کورونا کی ایمرجنسی میں مصروف ہے، ان حالات میں جرائم پیشہ افراد کو کیسے سڑکوں پر نکلنے دیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیفنس میں رات کو 3 بجے ڈاکو کورونا مریض کے نام پر آتے ہیں اور چیکنگ کے نام پر گھروں کا صفایا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے ہائی کورٹ سے ضمانت ہوئی ہے ڈکیتیاں بڑھ رہی ہیں، زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھ کر ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کرپشن کرنے والوں کا دھندا لاک ڈاؤن سے بند ہو گیا، سندھ میں کرپشن کے ملزمان کو بھی رہا کر دیا گیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کرپشن کرنے والوں کو روز پیسہ کمانے کا چسکا لگا ہوتا ہے، کرپشن کی بھوک رزق کی بھوک سے زیادہ ہوتی ہے، کرپشن کرنے والے کو موقع نہیں ملے گا تو وہ دیگر جرائم ہی کرے گا۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جیلیں خالی کرنے سےکورونا وائرس ختم نہیں ہو جائے گا، قیدیوں کے تحفظ کے لیے قانون میں طریقہ کار موجود ہے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ متاثرہ قیدیوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیلوں میں وائرس پھیلا تو الزام سپریم کورٹ پر آئے گا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے، کسی الزام کی پروا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں