0

تبدیلی کے دعوے اور مہنگائی کا ’’سونامی‘‘

تبدیل کے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ آنے والی عمرانی حکومت اپنے قیام سے لے کر اب تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ لا سکی ، اب تک کی حکومتی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ، ڈالر کی اڑان ،پیٹرولیم مصنوعات سمیت عام آدمی کی بنیادی ضرورت کی تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔عمران خان سابقہ حکومت کے خلاف اپنی مہم کے دوران ’’کنٹینر‘‘پر چڑھ کر جوجو بڑکھیں مارتے رہے اور اپنے خطابات میں ’’سوکنوں ‘‘کی طرح جو جو طعنے میاں نواز شریف کو دیتے رہے ، اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومتوں کی پیدا کردہ کوئی ایک خرابی بھی دور نہ کر سکے ۔عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھی بڑے بلند بانگ دعوے کئے تھے ،لٹیروں سے قومی دولت کی واپسی ، کڑااحتساب ،معصوم بچوں اور بچیوں سے زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے،اغوا ء کاروں کے خلاف سخت ایکشن لینے اور عوام کو ریلیف دینے کے اعلانات کئے مگر عملاً کوئی کام نہ کیا جاسکتا ۔ کسی بھی شعبے میں’’ حکومتی رٹ‘‘ کی عملداری نظر نہیں آتی ،اتوار بازار ہوں یا عام مارکیٹیں دکانداروں نے لوٹ مار کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے کہ رہے نام اﷲ کا ۔۔اتوار بازار وں سمیت گلی محلوں میں موجود کاندار بھی 50فیصد تک مہنگی چیزیں بیچنے میں لگے ،بعض دکاندار تو دوگنا قیمتیں وصول کر رہے ہیں ۔کہیں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘کا کوئی سسٹم موجود نہیں ،سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دکاندار اپنے گاہک کو اشیاء مہنگی بیچنے سے پہلے ’’تبدیلی خان‘‘کو ایک گالی دیتا ہے ،پھر گاہک کو بھی طعنہ مارتا ہے کہ کل آپ نے ہی ’’تبدیلی ‘‘ کے لئے ووٹ دئیے تھے ،اب بھگتیں ۔اور گاہک بے چارہ اس گالی یا طعنے کا جواب دینے کی بچائے مہنگا سودا خریدتا ہے اور سر جھکا کر شرمندگی سے بس اتنا ہی کہہ پاتا ہے کہ جناب ! غلطی ہو گئی ،ہم نے تو سوچا تھا کہ تبدیلی آئے گی ،یا پھر یہ کہہ کر جان چھڑاتا ہے کہ جی ہم نے تو تبدیلی خان کو ووٹ نہیں دیا ۔یہ تو ہم پر مسلط کیا گیا ہے ۔

اب اگر ایک نظر ’’تبدیلی خان ‘‘ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ حکومت نے بعض اشیاء کے وزن میں کمی کرکے ان کے ریٹ اسی تناسب سے بڑھا دئیے ہیں تاکہ لوگوں کو محسوس نہ ہو کہ حکومت غریبوں کی جیبوں پرڈاکے مار رہی ہے ۔ اس کی تازہ مثال کچھ اس طرح ہے حکومت نے آٹے کاتھیلہ جو سال ہا سال سے20کلو کی پیکنگ میں ملتا تھا ،یکدم اس کے وزن میں 5کلو کمی کر دی گئی ہے ۔اب مارکیٹ میں 15کلو وزن کا آٹے کا تھیلہ 690روپے سے750روپے میں بیچا جا رہا ہے ،یوں جو آٹا 40روپے کلو ملتا تھا اس کا نرخ46روپے فی کلو کردیا گیا ہے ،اس نئے نرخ پر صارف کو 20کلو آٹا 920روپے میں پڑے گا ،اس کے ساتھ ایک غیرمعیاری آٹے کا 20کلو وزن کا تھیلہ بھی 808روپے سے 820روہے میں مارکیٹ میں دیا جا رہا ہے ، جس کے متعلق دکاندار یہ کہتے ہیں کہ بھائی اس آٹے کی کوئی گارنٹی نہیں اور نہ ہی خرابی کی صورت میں اس کی واپسی ممکن ہے ۔یوں مارکیٹوں میں 15کلو وزن کا آٹا مہیاء کیا جانے لگا ہے ۔اسی طرح گھی بھی 900ملی گرام میں دستیاب ہے ،گھی کے تمام برانڈز کا نرح 180روپے کلو سے 220روپے تک پہنچ چکا ہے ،جو اس سے قبل 140روپے سے 180 روپے تک مل رہا تھا ،وزن کم کرنے کے اس فارمولے کا مقصد محض لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھوکنا ہے تاکہ لوگوں کو آٹا مہنگا ہوجا نامحسوس ہی نہ ہو ،یوٹیلٹی سٹورز پر بعض اشیاء غائب کر دی گئی ہیں ، لیکن جو دستیاب ہیں وہ بھی بازار کے مقابلے میں صرف 2یا 5روپے کم ریٹ پر دی جا رہی ہیں ۔ دودھ ، چینی ، گھی ، سرف ، دالیں ، پتی ، خشک میوہ جات ، پھلوں اور سبزیوں کے نرخ بھی غریب کی پہنچ سے دو رہوتے جا رہے ہیں ۔

مہنگائی کی اس ’’سونامی‘‘ نے لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ عمران خان کی کارکردگی نے عوام و خواص کو شدید مایوسی سے دوچار کر رکھا ہے ۔ اور اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ’’تبدیلی خان ‘‘ کو اقتدار میں لانے والی مقتدر قوتیں بھی اپنی غلطی پر پشیمان ہیں ۔نواز حکومت کی لوٹ مار اور اپنی تجوریاں بھرنے کی وجہ سے مایوس عوام کی اکثریت نے ’’تبدیلی ‘‘ اور معاشی خوشحالی کی اُمید پرعمران خان کو ووٹ دئیے تھے ، سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے وہ بچے کہ جن کے ابھی ووٹ بھی نہیں بنیں تھے ،انہوں نے بھی اپنی اپنی سطح پر اپنے والدین،بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کو مجبور کیا کہ وہ اس ملک و قوم کے بہتر مستقبل کیلئے نظام میں تبدیلی کیلئے ‘‘پی ٹی آئی کو ووٹ دیں ۔ہمارے ان بچوں کو قوی اُمید تھی کہ عمران خان ایک مخلص لیڈر ہے وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا ۔اور اس ملک میں ایک حقیقی معاشی انقلاب لایا جائے گا ۔ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل روشن و تابناک ہو گا ۔ لیکن آج وہی بچے سخت مایوسی اور اضطراب سے دوچار ہیں ۔کیونکہ ملک میں روزگار رہا اور نہ ہی کوئی ترقی و خوشحالی کا واضح منصوبہ سامنے آیا ہے ۔مہنگائی کا جن ہماری معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے میں لگا ہے ضرورت اس امر کی ہے وزیر اعظم عمران خان اپنی انتخابی مہم کے وعدوں کے ساتھ ساتھ اپنی پہلے تقریر کا بغور جائزہ لیں اور سوچیں کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر قوم کو کون کون سے سبز باغ دکھائے تھے اور کس قدر وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کی راہ ہموار کر سکیں ، کرپٹ معاشرے میں حق و انصاف کی سربلندی انتہائی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اداروں میں بیٹھے ہوئے سابقہ حکومت کے پروردہ عناصر ’’تبدیلی خان ‘‘ کے عزائم میں از خود ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور یہی لوگ عمران خان کے مقاصد کی راہ میں ایک ایسی دیوار ہیں کہ جن کی موجودگی میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے وزیر اعظم عمران خان ان تما م معاملات کا جائزہ لیں اور ایسے لوگوں کو نکال باہر کریں جو موجودہ حکومت کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کیلئے پوری طرح سرگرم عمل ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں