0

امریکاسے امن معاہدہ، طالبان رہنمانے بھی چپ کا روزہ توڑ دیا، افغان عوام کو بڑی خوشخبری سنادی

کابل/واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکا اورطالبان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور افغانستان میں امن کے امکانات روشن ہونے لگے۔امریکی ، پاکستانی اور افغان حکام کے بعد طالبان رہنما نے بھی معاہدہ ہونے کاامکان ظاہر کردیا ۔طالبان رہنما سراج الدین حقانی کاامریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں آرٹیکل بھی چھپ گیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ افغان عوام جلد ہی امن معاہدے کی خوشی منائیں گے۔اپنے آرٹیکل کے آغازمیں ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا تو ہمیں ان کی کامیابی پر ذرا بھی یقین نہیں تھا۔انہوں نے کہا اٹھارہ سال کی طویل اور خونریز جنگ اور مذاکرات کے کئی سیشنز کے بعد ہمارے لئے ممکن نہیں تھا کہ ہم امریکاپر مزید بھروسہ کریں۔اس کے باوجود ہم نے ایک بار پھر کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ طویل جنگ ہر فریق کیلئے تباہی کا باعث بنی تھی۔اس لئے ہم نے سوچا کہ امن کی کوشش میں شامل نہ ہونا عقلمندی نہیں ہے۔گزشتہ چار دہائیوں سے افغان عوام کی قیمتی زندگیاں مسلسل ضائع ہورہی ہیں۔ہر شخص نے اپنا کوئی نہ پیارا کھو دیا ہے۔ہر شخص جنگ سے تھک چکا ہے۔ میں قائل ہوگیا کہ یہ قتل وغارت گری اب ختم ہونی چاہئے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی سربراہی میں لڑنے والے غیر ملکی اتحاد کے ساتھ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، ہمیں دفاع پر مجبور
کیاگیا۔غیر ملکی افواج کا انخلا ہمارا اولین مطالبہ رہا ہے۔اور آج جب ہم امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے لکھا کہ ملا عبدالغنی برادراور شیر محمد عباس کی قیادت میں ہماری مذاکراتی ٹیم نے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں